غزہ جنگ کے دوران پیدا اور جاں بحق ہو جانے والے جڑواں شیر خوار بچوں کی رفح میں تدفین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی جنگ کے چند ہفتوں میں پیدا ہونے والے شیر خوار جڑواں بچوں ویصام اور نعیم ابو عنزہ کو اتوار کے روز سپردِ خاک کر دیا گیا جو ایک ہی خاندان کے 14 افراد میں سب سے کمسن تھے جس کے بارے میں غزہ کے محکمۂ صحت کے حکام کہتے ہیں کہ راتوں رات رفح میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔

ان کی والدہ رانیہ ابو عنزہ نے اتوار کو آخری رسومات کے دوران جڑواں بچوں میں سے ایک کے ننھے سے سفید کفن میں لپٹے ہوئے جسم کو اٹھا کر اپنے گال سے لگایا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ایک سوگوار نے دوسرے بچے کو قریب ہی اٹھا رکھا تھا جس کا پیلا نیلا پاجامہ کفن کے نیچے سے نظر آ رہا تھا۔

ابو عنزہ جن کا شوہر بھی جاں بحق ہو چکا ہے، نے روتے ہوئے کہا، "میرا دل میرے پاس نہیں رہا،" تو سوگواران نے انہیں تسلی دی۔ جب تدفین سے پہلے ایک بچے کی میت چھوڑ دینے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے مزاحمت کی۔ وہ دھیمی آواز میں کہنے لگیں، "اسے میرے پاس ہی رہنے دو۔"

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جڑواں بچے - ایک لڑکا اور ایک لڑکی - رفح میں ایک گھر پر حملے میں ہلاک ہونے والے پانچ بچوں میں شامل تھے۔ ابو عنزہ نے بتایا کہ ان کے ہاں شادی کے 11 سال بعد پہلے بچوں کی پیدائش ہوئی تھی۔

ابو عنزہ نے کہا، "ہم سو رہے تھے، ہم گولی نہیں چلا رہے تھے، لڑ نہیں رہے تھے۔ ان کا قصور کیا ہے؟ ان کا کیا قصورہے؟ اس کا کیا قصور؟"

"اب میں کیسے زندہ رہوں گی؟"

رشتہ داروں نے بتایا کہ جڑواں بچے کوئی چار ماہ قبل پیدا ہوئے تھے، 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ سے تقریباً ایک ماہ قبل۔

غزہ کے محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیل کی جارحیت سے غزہ کی پٹی میں تب سے اب تک 30,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، علاقہ برباد ہو گیا ہے اور اس کی زیادہ تر آبادی بے گھر ہو گئی ہے۔

حملے میں جاں بحق ابو عنزہ کے خاندان کے افراد کی میتیں سیاہ باڈی بیگز میں قطار میں رکھی تھیں۔ ایک آدمی مرنے والوں میں سے ایک بچے کی لاش پر رو رہا تھا جو پاجامہ پہنے ہوئے تھا۔ دوسرے آدمی نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ "خدا اس پر رحم کرے، خدا اس پر رحم کرے۔"

ابو عنزہ نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے ماہِ صیام رمضان المبارک سے پہلے جنگ بندی کی خواہش کر رہی تھیں جو 10 مارچ کے قریب شروع ہو رہا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے امید ظاہر کی ہے کہ اس وقت تک کسی جنگ بندی پر اتفاق ہو جائے گا۔ وہ کہتی تھیں۔ "ہم رمضان کی تیاری کر رہے تھے۔ میں اپنی زندگی کیسے گذاروں؟ کیسے؟"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں