ایران میں ’موساد‘ کے ساتھ تعاون کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اتوار کو ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک ایرانی شہری کو پھانسی دینے کا اعلان کیا جسے اس نے "موساد کے لیے کام کرنے والا دہشت گرد" قرار دیا تھا۔

"تسنیم" نے ایک مختصر رپورٹ میں اس شخص کا نام لیے بغیر اس کی پھانسی کا ذکر کیا اور صرف اتنا کہا کہ "وہ موساد کے لیے کام کرنے والا دہشت گرد تھا"۔ اس پر الزام تھا کہ وہ وسطی ایران کے شہر اصفہان میں ایرانی وزارت دفاع کے ورکشاپ کمپلیکس کو بم سے اڑانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اس نے یہ کارروائی موساد کے ایک افسر کے تعاون سے 28 جنوری 2023 کرنا تھی مگر اسے پکڑ لیا گیا اور دوران تفتیش اس نے اعتراف جرم کیا تھا۔

اس وقت ایرانی وزارت دفاع نے ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ اصفہان شہر میں وزارت دفاع سے وابستہ ورکشاپ کمپلیکس میں سے ایک پر "چھوٹے کواڈ کاپٹر" سے حملہ کیا گیا تھا۔

ایرانی وزارت دفاع نے اپنے اعلان میں کہا کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ ایک ناکام حملہ تھا، البتہ اس سے فوجی تنصیب کو نقصان پہنچا۔ اس میں ایک ورکشاپ کی چھت بھی متاثر ہوئی۔ حملے سے آلات یا سہولت کے آپریشن سسٹم میں کوئی خلل نہیں پڑا۔

اس حملے کے بعد اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایرانی نے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں اسرائیل پر الزام عائد کیا تھا۔

ایرانی شہر اصفھان میں بم دھماکے کا منظر

’سی این این‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے حملے میں اپنے ملک کے ملوث ہونے کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا تاہم انہوں نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے ایران میں بعض ہتھیاروں کی تیاری اور ترقی روکنے کے اقدامات کیے ہیں۔

29 جنوری کی صبح ایرانی عدلیہ نے چار کرد شہریوں محمد فرامرزی، محسن مظلوم، وفا آذربار اور پجمان فتحی کو "اسرائیل کے ساتھ تعاون" کے الزام میں پھانسی دے دی، جب کہ ایرانی اپوزیشن انہیں سیاسی کارکن تصور کرتی ہے۔

تاہم ایرانی عدلیہ سے وابستہ میزان نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ان چاروں افراد نے اسرائیل کے تعاون سے گذشتہ موسم گرما میں اصفہان میں بمباری کی کارروائی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن سکیورٹی فورسز نے کارروائی سے چند روز قبل انہیں گرفتار کرلیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں