حائل کے ’جادہ الابل‘ میلے نے چھٹی صدی قبل مسیح کے ثمودی رسم الخط کو زندہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے علاقے ’حائل‘میں ہونے والے "کیمل ایونیو"[جادہ الابل] فیسٹیول نے "ثمودی کیلیگرافی" کو ایک ثقافتی علامت کے طورپرمنتخب کیا ہے جو خطے کے پہاڑوں کے اگلے حصے میں موجود ہے، کیونکہ ثمودی زبان ’یونیسکو‘ کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں درج ہے۔ یہ خطاطی اونٹوں کے ورثے سے منسلک ہے۔ اس لیے اسے ’بادیہ‘ رسم الخط بھی کہا جاتا ہے۔

علمی ثقافت کا حصہ ہونے، ثقافتی تنوع کے بارے میں کمیونٹی میں آگاہی کوفروغ دینے اور صحرائی فنون کو محفوظ کرنے کے لیے اس تہوار میں ثمودی زبان کو اجاگر کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی اور اسے ایونٹ کے علاقوں میں اس کی علامات کے طور پر استعمال کیا۔

حائل کے علاقے میں ثمودی زبان میں چٹانوں پر کھلے میوزیم کی نمائندگی کرتے ہیں جو ہزاروں سال قبل قوم ثمود کی زندگی کی تفصیلات بیان کرتےاور خطے میں سیاحوں کے لیے پرکشش مقامات میں سے ایک ہے۔ اس میں ہزاروں آثار قدیمہ کے ثمودی نوشتہ جات موجود ہیں۔ ان میں سے بعض آٹھویں صدی قبل مسیح کے بتائے جاتے ہیں۔ خاموش چٹانوں پر ڈرائنگ اور تحریریں اس دور کے ثقافتی اورسماجی زندگی کی کھلی کتاب کی مانند ہیں جسے قوم ثمود کی ہزاروں سال کی نمائندگی کرتے ہیں.

ہیریٹیج سینٹر

قدیم تاریخ کے پروفیسرڈاکٹر مسفرسعد الخثعمی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ حائل میں منعقد ہونے والے"جادہ الابل" فیسٹیول نے ثمودی رسم الخط کو خطے کی ثقافتی علامت کے طورپرمنتخب کیا۔ ثمودی رسم الخط تیماء اور حائل کی چٹان کے اگلے حصوں پر پایا جاتا ہے۔ یہ رسم الخط کھلے عجائب گھرکی علامت ہے۔ یہ حائل اور تیماء گورنریوں میں ہزاروں سال قبل زندگی کی تفصیلات بیان کرتا ہے۔اس علاقے میں پتھروں پر موجود نقوش ثمودی دور کے ابتدائی زمانے خاص طور پر ابتدائی تاریخی مراحل کےمعلوم ہوتے ہیں جو تقریباً پانچ یا چھ صدی قبل مسیح تک پھیلے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی ترقی، خوشحالی اور پھر اس علاقے کی خوشحالی ثمودی دور میں واقع شروع ہوئی وہ پانچویں صدی سے پہلی صدی قبل مسیح کے درمیان کےدورکے بعد بہ تدریج اپنی اہمیت کھونے لگی۔ اس کے بعد الجوف کا علاقہ شاہراہ تقری کا حلقہ وصل بن گیا۔ یہ پہلی صدی قبل مسیح کے بعد تجارتی راستوں کا ربط اور اہم تقسیم کار تھا۔ یہ وہ دور تھا جس میں الجوف اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر نباطین ثقافت کا غلبہ تھا۔ جہاں تک اس دور میں حائل کے شمال میں واقع علاقے کا تعلق ہے تو یہ فارسی اثر و رسوخ کے تابع تھا۔ اس دورمیں قریبی اور مشرق وسطیٰ کے خطوں میں قدیم دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ اشتراک کیا گیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ میلے کے منتظمین نے قدیم حایل کے علاقے کی ثقافتی علامت کے طورپرثمودی رسم الخط کو منتخب کیا۔ یہ رسم الخط اس علاقے میں سیاحت کی سرگرمیوں کو راغب کرنے اوراس کی فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں