سعودی عرب کی جامعات اور قومی تحقیقی مراکز 93 پیٹنٹ حاصل کرنے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس اتھارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی یونیورسٹیوں اور قومی تحقیقی مراکزسے سال 2023ء کے لیے دائر کی گئی پیٹنٹ درخواستوں کی کل تعداد تقریباً 93 پیٹنٹ تک پہنچ گئی، جو کہ مملکت کے اندر سے دائر کی گئی کل درخواستوں میں سے 5 فیصد کی نمائندگی کرتی ہے۔ .

گذشتہ سال انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس اتھارٹی کے پاس دائر کی گئی پیٹنٹ درخواستوں کی کل اداروں اور افراد کی درخواستوں کی تعداد تقریباً 7,084 تک پہنچ گئی ہے۔ اس میں سال 2022ء کے مقابلے میں تقریباً 21.36 فیصد اضافہ ہوا

رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق انفرادی طور پر پینٹنٹ کے حصول کے لیے تقریباً 1,320 درخواستیں دی گئیں جو کہ اسی رپورٹ کے مطابق پیٹنٹ کی کل دائر کی گئی درخواستوں میں سے 18 فیصد کی نمائندگی کرتی ہیں۔

ادارہ جاتی درخواستوں کا تناسب گذشتہ سال کے دوران دائر کی گئی درخواستوں کا تقریباً 81 فی صد تھا، جب کہ پیٹنٹ کی درخواستیں دائر کرنے والے سرفہرست پانچ اداروں میں دو قومی ادارے شامل تھے۔ان میں سعودی آرامکو نے 26 فی صد اور سابک کی درخواستوں کا تناسب 1.15 فی صد تھا۔

سنہ 2022ء کے اعدادوشمار کے مقابلے میں اداروں کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواستوں کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جب کہ انفرادی طور پر دی گئی درخواستوں کی تعداد میں بھی 24.76 فیصد کی نمایاں شرح دیکھی گئی۔

انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس اتھارٹی نے داخلی درخواست دہندگان کو تقریباً 758 پیٹنٹ دستاویزات جاری کیں جبکہ مملکت سے باہر کے درخواست دہندگان کو 1,960 پیٹنٹ دستاویزات جاری کی گئیں۔

انٹلیکچوئل پراپرٹی انفارمیشن سینٹرکی جانب سے اس شعبے کے لیے سب سے نمایاں اشاریوں پر مشتمل ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مملکت کے اندر سے درخواست دہندگان کی جانب سے دائر پیٹنٹ کی درخواستیں دائر کردہ کل درخواستوں میں سے تقریباً 39 فی صد کی نمائندگی کرتی ہیں، جبکہ بیرون ملک سے دائر کردہ درخواستیں 60 فی صد کی نمائندگی کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں