سعودی کھجور کی صنعت کی توجہ مشرقی ایشیائی منڈیوں پر مرکوز ہے: عہدیدار

مملکت کی کھجور کی برآمدات 390 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو 2023 میں 14 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

قومی مرکز برائے کھجور کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 2023 میں سعودی عرب کی کھجور کی برآمدات کی مالیت میں 14 فیصد اضافہ ہوا جو 2022 میں 1.280 بلین سعودی ریال کے مقابلے میں 1.462 بلین سعودی ریال (390 ملین ڈالر) تک پہنچ گئی۔

2023 کے آخر تک سعودی کھجور درآمد کرنے والے ممالک کی تعداد 119 تک پہنچ گئی تھی۔ 2016 کے بعد سے کھجور اور اس کی ضمنی مصنوعات کی برآمدات کی کل مالیت میں 152.5 فیصد اضافہ ہوا جو 2016 میں 579 ملین ریال سے بڑھ کر 2023 میں 1.462 بلین ریال تک پہنچ گیا۔ یہ سالانہ کمپاؤنڈ نشوونما کی 12.3 فیصد شرح ہے۔

قومی مرکز برائے کھجور کے سی ای او ڈاکٹر محمد النویران نے کہا، "گذشتہ سال 2023 کے مقابلے میں اضافے کی شرح اور تقریباً 120 ممالک کی مارکیٹ میں داخلہ "ہمارے لیے بہت زیادہ اہم ہے" جبکہ بنیادی سال 2016 کے مقابلے میں مجموعی سالانہ شرح (سالانہ 12 فیصد) یہ ظاہر کرتی ہے کہ "ہم عالمی منڈیوں میں بتدریج داخل ہو رہے اور بتدریج پھیل رہے ہیں۔"

2023 میں سنگاپور کو کھجور کی برآمدات میں 86 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ جنوبی کوریا میں 24 فیصد اور فرانس میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔

فی الحال 20 سے زیادہ سعودی کمپنیاں چینی کسٹمز سے منظور شدہ ہیں اور مملکت کی چین کو کھجوروں کی برآمدات میں توسیع اس کی عکاسی کرتی ہے۔ النویران نے مزید کہا، دیگر عالمی منڈیوں کی نسبت زیادہ مشرقی ایشیائی منڈیوں پر واضح طور پر توجہ مرکوز ہے۔

قومی مرکز برائے کھجور کے سی ای او ڈاکٹر محمد النویران (فراہم کردہ)
قومی مرکز برائے کھجور کے سی ای او ڈاکٹر محمد النویران (فراہم کردہ)

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ سعودی عرب صرف کھجور کی برآمد تک محدود نہیں ہے بلکہ برآمدات میں کھجور کے مشتقات جیسے گڑ، پیسٹ اور دیگر شامل ہیں جو سعودی عرب سے باہر کے شعبے سے برآمدات کی موجودگی کو بڑھاتے ہیں۔

النویران نے مزید کہا، "مشرقی ایشیائی ممالک کھجوروں کی سعودی برآمدات سے توجہ حاصل کر رہے ہیں خاص طور پر سنگاپور جو ان ممالک کے مرکز میں واقع ہے جو کھجور اور ان کے مشتقات برآمد کرنے کے لیے ہدف بنائے گئے ہیں مثلاً انڈونیشیا، ملائیشیا اور بالخصوص چین۔ جو چیز اس کی تائید کرتی ہے وہ سعودی کھجوروں کی زیادہ طلب ہے جو اعلیٰ غذائی اہمیت اور پیداواری معیار کی حامل ہیں۔"

انہیں توقع ہے کہ کھجور کی برآمدات کی شرحِ نمو اگلے پانچ سالوں میں بڑھے گی یا کم از کم مستحکم رہے گی۔

النویران نے نشاندہی کی کہ مقامی اور بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کا نمایاں رجحان ہے بالخصوص کھجور کے درختوں سے حاصل ہونے والی پلاسٹک کی لکڑی اور پاؤڈر، گڑ، پیسٹ اور سرکہ جیسی مصنوعات جو کھجور سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

کھجور کے مشتقات مختلف مصنوعات جیسے ڈیری، بیکری، آئس کریم اور مٹھائیاں بنانے والے کارخانوں میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

النویران نے کہا، "ہم فی الحال خوراک کی صنعتوں میں کھجور کے مشتقات شامل کرنے کے لیے بڑی بین الاقوامی غذائی کمپنیوں کے ساتھ سنجیدہ بات چیت میں مصروف ہیں۔"

ہدفی ممالک میں مارکیٹنگ کی سرگرمیوں کی حمایت کے لیے انہوں نے سعودی کھجور کے کاشتکاروں، برآمد کنندگان اور حکومتی شعبوں کے درمیان سنجیدہ اور پرزور کوششوں کی تصدیق کی۔ اس میں مقامی اور بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت، تجارتی مشن، برآمدی طریقۂ کار کو آسان بنانا اور مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت نجی شعبے کے ساتھ تعاون کرنا شامل ہے اور یہ سب پرجوش اور معاون قیادت کے تحت ہو گا۔

سعودی کھجور کی برآمدات میں بہت سے ممالک میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، اس بات کا ذکر کرتے ہوئے النویران نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں سعودی کھجوروں کی موجودگی بڑھانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین کو کھجور کی برآمدات میں 2022 کے مقابلے میں گذشتہ سال 121 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

النویران کے مطابق اپنی حکمت عملی اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے قومی مرکز برئے کھجور کا مقصد اپنے اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنا ہے جس میں سعودی کھجوروں کو عالمی سطح پر صارفین کی اولین پسند بنانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مرکز کھجور اور ان سے اخذ کردہ مصنوعات کی قومی برآمدات میں اضافہ کرنے، پیداواری معیار بڑھانے کے لیے زرعی اور صنعتی طریقوں کو بہتر بنانے، مارکیٹنگ کی خدمات اور شعبے کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کرنے اور شعبے کو بااختیار بنانے سمیت متعدد اقدامات نافذ کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں