اسرائیل اور لبنان کی سرحد جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی : اموس ہو چیسٹین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پیر کے روز لبنان کے دورے پر پہنچنے والے امریکی ایلچی آموس ہوچیسٹین نے کہا ہے کہ کشیدگی کا پھیلنا کسی کے بھی فائدے میں نہیں ہو گا۔ اور جنگ کبھی محدود جنگ نہیں ہوتی ہے۔ وہ بیروت میں رپورٹرز سے بات کر رہے تھے۔

آموس ہوچیسٹین کا دورہ بیروت اسرائیلی اور لبنان کے درمیان کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ہے۔ یہ کشیدگی سات اکتوبر سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے بعد سے جاری ہے ، اب تک اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 200 لبنانی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایک تازہ غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق حزب اللہ سربراہ حسن نصراللہ کا پوتا بھی اسرائیل کے لبنان پر حملے میں مارا گیا ہے۔ امریکی ایلچی حالات کی اسی سنگینی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے آئے ہیں۔ 2006 کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان یہ شدید تر کشیدگی ہے۔

ہوچیسٹین نے کہا 'سرحد پر کشیدگی میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے پچھلے کئی ماہ سے امریکی سفارت کار کشیدگی کو خطے میں بڑھنے سے روکنے لیے آرہے ہیں مگر اسرائیل کو اپنے ہمسایہ ملکوں پر حملوں سے روک نہیں سکے ہیں۔ کیونکہ آئے روز ایک نئے اسرائیلی فضائی حملے کی خبر سامنے آ جاتی ہے۔

امریکی ایلچی نے مزید کہا ' محدود جنگ بندی کافی نہیں ہے، محدود جنگ کو بھی محدود نہیں رکھا جا سکتا ہے۔'

لبنانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر الیاس بو صاب نے امریکی ایلچی کی ملاقات کے بعد بتایا ' جس وقت ہو چیسٹین کا یہ دورہ ہوا ہے انہیں یقین ہے کہ غزہ میں جنگ بندی قریب ہونے کے اشارے ہیں۔'

خیال رہے حزب اللہ کی طرف سے پہلے ہی کہا جا چکا ہے کہ غزہ میں جنگ رکنے پر بھی اسرائیلی حملے لبنان پر جاری رہے تو حزب اللہ بھی اپنے جوابی حملے جاری رکھے گی۔

اب ہوچیسٹین نے بھی کہہ دیا کہ غزہ میں جنگ بندی کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں بھی خود بخود رک جائیں گی۔ تاہم وہ پر امید ہیں کہ ایک سفارتی حل نکل آئے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں