فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل نے اقوام متحدہ میں حماس پرجنسی الزامات کو پذیرائی نہ ملنے پر اپنا سفیربلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کو حماس پر لگائے گئے اپنے جنسی زیادتیوں کے الزامات میں ناکامی پر اقوام متحدہ میں اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلایا ہے ، یہ بات اسرائیلی وزیر خارجہ کاٹز نے پیر کے روز بتائی ہے۔

کاٹز نے کہا میں اپنے سفیر کو واپس پہنچنے کے لیے کہا ہے ، تاکہ فوری طور پر مشاورت کا اہتمام کیا جاسکے۔ کیونکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے کہ حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیلیوں کے ساتھ عصمت پامال کرنے کا رویہ برتا ۔

اسرائیل جس نے غزہ میں اپنی جنگ کے دوران بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ تنقید اور لعن طعن دیکھنے کے بعد اپپنے پہلے سے موجود وزیر خارجہ کو تبدیل کر دیا۔ اب ایک بار پھر اقوام متحدہ اور اس کی قیادت کے خلاف بھر پور تنقید کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پر یہ تنقید بھی کی ہے کہ انہوں نے حماس کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس کیوں طلب نہیں کیا ہے۔ واضح رہے اسرائیل نے حالیہ پانچ ماہ کے دوران اقوام متحدہ ، اس کی قیادت اور اداروں کو بد ترین تنقید کا کئی بار نشانہ بنایا ہے۔کئی بار سیکرٹری جنرل کے استعفے کا مطالبہ کیا جا چکا ہے۔

اقوام متحدہ پر تنقید کا تازہ موقع اس طرح بنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنگوں کے دوران تشدد و ہراسگی کے امور کو دیکھنے کی ذمہ دار پارمیلا پیٹن نے ااقوام متحدہ میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں اسرائیل کی طرف سے حماس پر جنسی جرائم کے الزامات کو کوئی وقعت نہیں دی ہے۔ ان کا کہنا کہ ایسا کوئی جواز نہیں ہے کہ حماس پر اس الزام کو عائد کیا جائے۔

جبکہ اسرائیل کا موقف یہ ہے کہ سات اکتوبر کو ئی مقامات پر جنسی ہراسگی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ علاوہ ازیں اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی ان واقعات کا سامناکرنا پڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں