دو طیارے ہائی جیک کرنے والی فلسطینی لیلیٰ خالد برطانیہ میں فنڈ ریزنگ مہم میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک سال میں دو طیاروں کو ہائی جیک کرنے کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل کرنےوالی مشہور فلسطینی خاتون اگلے جمعہ کو وسطی انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں فلسطین سولیڈیریٹی موومنٹ کی جانب سے منعقدہ فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کریں گی۔ گذشتہ ماہ اس تحریک نے لندن میں فلسطینیوں کی حمایت میں ایک بہت بڑا جلوس نکالا تھا جس میں برطانوی پارلیمنٹ کی عمارت پر "دریا سے سمندر تک" کا نعرہ لگایا گیا تھا۔

دریائے ’اردن سے بحر مردار تک‘ کے نعرے پر برطانیہ میں موجود یہودی تنظیموں نے سخت احتجاج کیا۔ انہوں نے ریلی میں ہائی جیکر رہنے والی خاتون لیلیٰ خالد کی تقریر پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔

لیلیٰ خالد کے ساتھ اس یجکہتی فنڈ ریزنگ مہم میں فلسطینی ہدیٰ عموری بھی شرکت کریں گی جنہوں نے لیلیٰ کے ساتھ مل کر "فلسطین یکجہتی آرگنائزیشن" کی مشترکہ بنیاد رکھی۔ اس کی سرگرمیاں برطانیہ میں ایسی کمپنیوں کو نشانہ بناتی ہیں جو اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرتی ہیں۔

تاہم 79 سالہ لیلیٰ خالد جو اسرائیلی شہر حیفا پیدا ہوئیں اور اردن کے دارالحکومت عمان میں اپنے دو بیٹوں اور شوہر کے ساتھ رہائش پذیر ہیں تقریب میں ذاتی طور پر نہیں بلکہ صرف آڈیو اور ویڈیو میں شرکت کریں گی۔

لیلیٰ خالد اپنے خطاب ویڈیو کے ذریعے کریں گی، کیونکہ ان پر 2005ء سے برطانیہ جانے پر پابندی عائد ہے۔ برطانوی سفارت خانے نے اس سال انہیں شمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ میں ایک تہوار کے اجلاس میں تقریر کرنے کے لیے انٹری ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس پابندی کی وجہ لیلیٰ کا "پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین" کا ایک سرکردہ رکن ہوہا ہے۔ اس تنظیم کو یورپی یونین ، امریکہ، کینیڈا اور جاپان نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ماضی میں ایک سال کے اندر دو طیارے ہائی جیک کرنے میں بھی ملوث پائی گئی ہیں۔

پہلا طیارہ سلیم العیساوی نے ہائی جیک کیا جسے لیلیٰ کی مدد حاصل رہی، سلیم 2012ء میں کینسر کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ 29 اگست 1969 کو اس نے امریکی کمپنی TWA کا ایک طیارہ ہائی جیک کر لیا، جو لاس اینجلس سے روم کے راستے تل ابیب جا رہا تھا۔ جب یہ اطالوی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر رکی تو وہاں سے دو دیگر افراد اس میں سوار ہوئے۔ آدھے گھنٹے کی پرواز کے بعد دونوں مشتبہ عناصر نے ہتھیار نکالے اور پرواز نمبر 840 کا رخ دمشق کی طرف تبدیل کرنے پرمجبور کردیا۔ جب تمام116 مسافر طیارے سے اتار دیے گئے تو جہاز کو بم سے اڑا دیا گیا۔

پھر 6 ستمبر 1970ء کو لیلیٰ خالد امریکی شہریت رکھنے والے نیکاراگو کے 27 سالہ پیٹرک ارگیلو کے ساتھ فرینکفرٹ روانہ ہوگئی۔ اس نے تین مزید طیاروں کے اغواء کا منصوبہ بنایا اور اسرائیل کی ’العال‘ فضائی کمپنی کے ایک طیارے میں سوار ہونے میں کامیاب ہوگئی۔

اوراس کے ساتھ ایک کمپلیکس کے حصے کے طور پراسرائیلی کمپنی"ال" کے ہوائی جہاز میں سوار ہوا۔ میں سے ایک طیارہ سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں اور دوسرا امریکہ میں اغوا کرنا تھا۔ تاہم اسرائیلی العال کمپنی کے طیارے میں دو اغوار کا موقعے پر پہنچنے میں ناکام رہے اور نکاراگوان کےملزم کو لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کے سکیورٹی محافظوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

لیلیٰ خالد کو اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے گرفتار کرلیا جسے ایک ماہ بعد اس کے ساتھیوں کے پین امریکن طیارے کو ہائی جیک کرنے کے بدلے میں رہا کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں