مشرق وسطیٰ

فلسطینیوں کی غزہ سے جبری نقل مکانی کو مسترد کرتے ہیں: سعودی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ مملکت رفح کے خلاف کسی بھی جارحیت کے نتائج وعواقب سے خبردار کر رہی ہے۔ ہم غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے غزہ میں فوری امداد فراہمی کا مطالبہ دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ رفح پر اسرائیلی جارحیت کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

ان خیالات کا اظہار سعودی وزیر خارجہ نے منگل کے روز خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس کے دوران کیا۔ یہ اجلاس غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے حوالے سے تبادلہ خیال کے لیے خصوصی طور پر بلوایا گیا تھا۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ غزہ میں فوری سیز فائر کا مطالبہ کرنے والے ملکوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ’’اب فلسطینی ریاست اور دو ریاستی حل کا مطالبہ تسلیم کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔‘‘

انہوں نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ عالمی برادری غزہ میں انسانیت کے خلاف روا رکھے جانے والے اسرائیلی مظالم کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔ شہزادہ فیصل نے کہا کہ غرب اردن میں انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے خلاف پابندیاں مثبت اقدام ہیں۔

انہوں نے مغربی کنارے میں تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اونروا کی حمایت

سعودی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی ورکس اینڈ ریلیف ایجنسی [اونروا] کی حمایت کرنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس ادارے کا اہم کردار ختم کرنے کی کوششوں کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ اونروا کو ہدف بنانے سے غزہ کی پٹی میں عام فلسطینی شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام

اس سے قبل سعودی عرب کی کابینہ نے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایک متحد موقف کے ذریعے اسرائیل کو عالمی انسانی قانون کے احترام کا پابند بنائے۔ سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق کابینہ نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی کو ملانے والے محفوظ انسانی راستے کھولے تاکہ امدادی سامان اور ادویہ بلا روک متاثرہ علاقوں تک پہنچائی جا سکیں۔

یاد رہے کہ رمضان کے مہینے سے پہلے قاہرہ میں حماس اور مصالحت کاروں کے درمیان مذاکرات کے یکے بعد دیگرے ہونے والے ادوار میں اس امر کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دو طرفہ قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے معاہدے کو جلد از جلد ممکن بنایا جا سکے۔ حماس کے ایک ذریعے کے مطابق یہ مذاکرات اب ایک مزید دن آگے بڑھا دیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں