لبنان: اسرائیلی فضائی حملے میں حزب اللہ کے سربراہ کا پوتا بھی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا پوتا ہفتے کے اواخر میں ایک فضائی حملے کے دوران ہلاک ہو گیا ہے۔ اسرائیل نے یہ حملہ جنوبی لبنان میں کیا گیا ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ عباس خلیل بھی ان جنگجووں میں سے ایک ہے جو یروشلم کے راستے پر چلا گیا ہے۔ واضح رہے حزب اللہ سات اکتوبر کے بعد اسرائیلی حملوں کے دوران ہلاک ہونے والوں کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں کہ ' یروشلم کے راستے پر'۔

حزب اللہ نے سات اکتوبر سے غزہ پر اسرائیل کی شروع ہونے والی بد ترین جنگ کے رد عمل کے طور پر لبنان اسرائیلی سرحد پر حملے شروع کیے تھے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ جب غزہ میں اسرائیلی حملے بند ہو جائیں گے تو حزب اللہ بھی یہ حملے بند کر دے گی۔

اسرائیلی میڈیا نے ایک شامی 'میڈیا آؤٹ لیٹ ' کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ' خلیل حزب اللہ کے ان تین جنگجووں میں سے ایک ہے جنہیں ہفتے کے اواخر پر ایک اسرائیلی فضائی حملے کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔ تاہم ' العربیہ' نے آزادانہ بنیادوں پر ابھی اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا بیٹا 1997 میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا تھا، جس پر حسن نصراللہ نے کہا تھا' مجھے اپنے بیٹےکی شہادت پر فخر ہے۔' اس موقع پر انہوں نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2006 میں ایک جنگ لڑی گئی تھی۔ اس کے بعد لمبے عرصے کے لیے دو طرفہ امن رہا ۔ اب اس کے بعد پہلی بار اس قدر کشیدگی میں شدت کا منظر ہے۔

امریکہ نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تصادم کی فضا مزید پھیلنے سے روکنے اپنے ایلچی کا تقرر کر رکھا ہے ۔ یہ امریکی ایلچی آموس ہوچیسٹین پیر کے روز اس سلسلے میں لبنان پہنچے اور لبنانی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں