وِسل بلور پروٹیکشن قانون کا مقصد انصاف کے تصور کو راسخ کرنا ہے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وسل بلور پروٹیکش پروجیکٹ میں انسانی حقوق کے مطالعے کی نگران کمیٹی کے سربراہ اور سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کے ایک رکن ڈاکٹر ہادی الیامی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ یہ پروگرام انصاف، شفافیت اور احتساب کے تصورات کو قائم کرنے کے مقصد کے تحت شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد انصاف کے حصول کے لیے مذکورہ گروپوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور بغیر کسی خوف کے بیانات اور گواہیاں دینے میں ان کی مدد کرنا ہے۔

انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب سعودی شوریٰ کونسل نے بدعنوانی کی نشاندہی کے لیے وسل بلورز، مخبروں، اور عینی شاہدین کے تحفظ کے لیے ایک نظام کی منظوردی ہے۔

وسل بلور پروٹیکشن پروگرام مجاز حکام پر زور دیتا ہے کہ وہ ہ جرم سے متعلق تمام دستاویزات اور ریکارڈ میں شامل مخبروں، گواہوں، ماہرین اور متاثرین کی شناخت رازداری میں رکھنے کے لیے کام کریں۔

ام القریٰ اخبار کے مطابق قانون کا مقصد ایسے افراد کو تحفظ فراہم کرنا ہے جنہیں عدالتی مقدمات میں ثبوت فراہم کرنے کے لیے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ وسل بلور پروٹیکشن قانون عدالتی اور سکیورٹی حکام کو پابند بناتا ہے کہ وہ بدعنوانی کی نشاندہی کرنے میں شامل مخبروں، عینی شاہدین اور دیگر لوگوں اوران کے خاندان کے افراد کو تحفظ فراہم کریں تاکہ انہیں کسی قسم کی انتقامی کارروائی سے بچایا جا سکے۔

یہ قانون معلومات کے تبادلے کی حوصلہ افزائی اور سہولت فراہم کرکے مخبروں، گواہوں، ماہرین اور متاثرین کو کسی بھی حملے، دھمکیوں، مادی یا اخلاقی نقصان، یا کسی بھی ایسی چیز سے جس سے معلومات کی فراہمی کا عمل متاثر ہوسکتا ہے سے تحفظ فراہم کرکے جرائم کا مقابلہ کرنے میں بھی تعاون کرتا ہے۔

قانونی تحفظ

الیامی نے مزید کہا کہ "یہ پروگرام ایک مربوط چھتری کی نمائندگی کرتا ہے جو مناسب قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، انھیں ان حملوں اور انتقامی کارروائیوں کی اقسام سے بچاتا ہے جن سے انھیں حقوق کے حصول اور شکایات کے ازالے میں عدالتی خدمات میں مدد کی وجہ سے بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔ ان کے ذاتی ڈیٹا کے ساتھ مکمل رازداری کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اسے افشا کرنا یا اسے لیک کرنا سختی سے منع ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کے خلاف فوری مقدمہ چلایا جائے گا اور اسے عبرتناک سزا دی جائے گی۔

سعودی پبلک پراسیکیوشن نے 25 ایسی چیزوں کی نشاندہی کی ہے جو بڑے جرائم میں شمار ہوتے ہیں جن میں ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے۔ ان میں سرحدی جرائم جن کی سزا قتل، جسم کا کوئی عضو کاٹنے، پہلے سے طے شدہ یا نیم ارادی قتل کے جرائم، قومی سلامتی کے خلاف جرائم اور دیگر شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں