فلسطین اسرائیل تنازع

ڈھانچہ بنے فلسطینی بچے یزن کی ویڈیو نے لاکھوں لوگوں کو آبدیدہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی بچہ یزن الکفارنہ پیر کی شام رفح کے ابو یوسف النجار اسپتال میں غذائی قلت کے باعث دم توڑ گیا۔ وہ شمالی غزہ سے علاج کی غرض سے لایا گیا تھا، کیونکہ اس کی حالت بہت زیادہ خراب تھی۔

انتہائی لاغر ، ڈھانچہ بنے بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے کے بعد لاکھوں لوگوں کے دل افسردہ اور انکھیں نم ہوگئیں۔

طبی ذرائع نے بتایا کہ بچہ دماغی فالج کا مریض تھا۔اس کی پیدائش کے وقت آکسیجن کی ناکافی رسائی تھی اور ضروری خوراک، علاج اور ادویات کی کمی کی وجہ سے اس کی حالت مزید بگڑ گئی تھی۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی معان نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ غذائی قلت اور علاج کی کمی کے باعث مرنے والے بچوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔

اسی تناظر میں، کمال عدوان ہسپتال نے اتوار کی شام اعلان کیا کہ 15 بچے غذائی قلت اور پانی کی کمی سے ہلاک ہو گئے ہیں، اور 6 دیگر بچے انتہائی نگہداشت میں ہیں۔

شمالی غزہ کی پٹی میں کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ نے کہا کہ شمال میں بچوں کی اموات بھوک، غذائی قلت اور ایندھن کی کمی کے باعث ہو رہی ہیں۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ بیمار بجوں کو کسی بھی وقت سانس لینے والوں کی ضرورت پڑسکتی ہے، جب کہ ایندھن مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے آکسیجن پیدا کرنے والے پلانٹ کو بند کردیا گیا ہے۔

30,534 متاثرین

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے خبردار کیا تھا کہ غزہ میں دو سال سے کم عمر چھ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔

انہوں نے کم از کم 10 بچوں کی غذائی قلت اور پانی کی کمی کی وجہ سے ہونے والی اموات کو اب تک کا"خوفناک" عدد قرار دیا۔

یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل 7 اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر بڑے پیمانے پر جنگ کر رہا ہے جس میں 30,534 سے زیادہ متاثرین اور 71,920 زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں