فلسطین اسرائیل تنازع

’اونروا‘ کا اسرائیل پر دوران حراست اپنے ملازمین کو اذیتیں دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ ایجنسی کے متعدد ملازمین پر دوران حراست "تشدد" کا مرتکب ہوا ہے۔ ان ملازمین کو اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ کے سلسلے میں غزہ کی پٹی میں گرفتار کیا تھا۔

ایجنسی نے کہا کہ اس کے متعدد ملازمین نے اطلاع دی ہے کہ انہیں اسرائیلی فورسز کی طرف سے تفتیش کے دوران تشدد اور ناروا سلوک کے تحت اعتراف جرم کرنے پر مجبور کیا گیا۔

اس تناظرمیں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (اونروا) کے ڈائریکٹر جنرل فلپ لازارینی نے پیر کے روز خبردار کیا کہ "اضافی فنڈنگ کے بغیر ہم بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین اثرات کے ساتھ نامعلوم علاقے میں ہوں گے"۔

لازارینی نے اقوام متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ "ہم کم سے کم صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔"

امریکہ اقوام متحدہ کی ایجنسی کو سب سے بڑا عطیہ دینے والا ملک اور دیگر ممالک نے اسرائیل کی جانب سے UNRWA کے 12 ملازمین پر حماس کے عسکریت پسندوں کی طرف سے 7 اکتوبر کو شروع کیے گئے حملے میں حصہ لینے کا الزام عائد کرنے کے بعد فنڈنگ روک دی تھی۔

اسرائیل نے پیر کے روز ’اونروا‘ پر اپنی تنقید تیز کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے 450 ملازمین غزہ کی پٹی میں مسلح گروپوں کے رکن ہیں، حالانکہ اس نے اپنے الزامات کی حمایت کے لیے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

تنازعات میں جنسی تشدد پر توجہ مرکوز کرنے والی اقوام متحدہ کی ایلچی پرمیلا پیٹن نے پیر کو کہا کہ اس بات پر یقین کرنے کے لیے "مناسب بنیادیں" موجود ہیں کہ حماس نے حملے کے دوران عصمت دری، "جنسی تشدد" اور خواتین کے ساتھ دیگر ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کیا۔

حماس کے سات اکتوبر کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر وسیع جنگ مسلط کی گئی جس میں اب تک تیس ہزارسے زائد فلسطینی جاں بحق اور ستر ہزار سے زاید زخمی ہوچکے جب کہ غزہ کی دو ملین آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں