آسیان اور آسٹریلیا کا غزہ میں ’فوری اور پائیدار‘ جنگ بندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوب مشرقی ایشیائی اور آسٹریلوی رہنماؤں نے بدھ کے روز فلسطینی سرزمین پر انسانی صورتِ حال کو "خوفناک" قرار دیتے ہوئے غزہ میں فوری اور دیرپا جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

متن پر کئی دنوں تک جاری رہنے والی سفارتی کشمکش کے بعد 11 ممالک کے رہنماؤں بشمول مسلم اکثریتی انڈونیشیا اور ملائشیا نے کہا، "ہم فوری اور پائیدار انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے زور دیتے ہیں۔"

غزہ کی پٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال اس وقت شدید بحث کا موضوع بن گئی جب دس ملکی آسیان بلاک کے رہنماؤں نے اپنے آسٹریلوی ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کے لیے میلبورن میں تین روزہ سربراہی اجلاس بلایا۔

مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان کے قریب آنے کے ساتھ ہی امریکہ اور اقوام کی بڑھتی ہوئی فہرست لڑائی میں کسی قسم کا تؤقف حاصل کرنے کے لیے کوششیں تیز کر رہی ہے۔

آسیان اور آسٹریلیا نے کہا، "ہم تمام شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف حملوں کی مذمت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں غزہ میں انسانی بحران مزید بگڑ رہا ہے جس میں خوراک، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی کا محدود ہونا شامل ہے۔"

"ہم تمام ضرورت مندوں تک تیز رفتار، محفوظ، بلا روک ٹوک اور پائیدار انسانی رسائی کا مطالبہ کرتے ہیں جس میں سمندری راستے سمیت سرحدی گذرگاہوں پر زیادہ نجائش کے ذریعے رسائی شامل ہے۔"

اس گروپ نے اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی اونروا کی بھی حمایت کی باوجود یہ کہ آسٹریلیا نے اس گروپ کی فنڈنگ کو اس الزام پر روک دیا کہ اس کا کچھ عملہ مسلح مزاحمت کار گروپوں کا رکن تھا۔

سنگاپور نے غزہ کی پٹی میں "بھوک کے استعمال" کی مذمت کی ایک تجویز پر پس و پیش کی جس کی زبان اسرائیل کو مشتعل کر سکتی تھی۔

سفارت کاروں نے اس بات پر بھی بحث کی کہ آیا اس بیان میں مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا جانا چاہئے یا زیادہ عارضی "انسانی بنیادوں پر" تؤقف۔

جنوب مشرقی ایشیا دنیا کی تقریباً 40 فیصد مسلم آبادی کا گھر ہے اور آسیان کے بااثر ممالک انڈونیشیا اور ملائیشیا فلسطینی تحریک کے سخت حامی ہیں۔

لیکن دیگر بااثر آسیان ممالک مثلاً سنگاپور کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ تنازعے کو ہوا دینے کے لیے کم بے چین ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں