فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کی اندھا دھند بمباری جاری، غزہ میں حمل 'جہنم سے بھی بدتر' ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیلی بمباری سے اپنے گھر سے بھاگنے پر مجبور اسماء احمد نے غزہ شہر کے ایک اسکول میں آدھی رات کو بچے کو پیدائش دی جس میں بجلی نہیں تھی۔

ڈاکٹر عین وقت پر پہنچ گیا اور اس نے موبائل فون کی روشنی سے کام کیا اور طبی عملے کو جو کچھ بھی مل سکتا تھا اس سے بطنی نال بند کر دی۔

31 سالہ اسماء احمد کا بیٹا فراج چار ماہ قبل دنیا میں کیسے آیا، یہ یاد کرتے ہوئے انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "مجھے بچے کو کھو دینے کا بہت خوف تھا۔"

ڈلیوری میں مدد کرنے والی نرس براء جابر نے کہا کہ وہ بھی خوفزدہ تھیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت دیر ہو چکی تھی اور اس وقت قابض (اسرائیل) سڑکوں پر حرکت کرنے والے کسی بھی شخص پر بمباری کر سکتا تھا۔

8 مارچ کو عالمی یومِ خواتین سے پہلے امدادی کارکنوں اور طبی ماہرین نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت کے اندازے کے مطابق غزہ کی تقریباً 52,000 حاملہ خواتین جاری جنگ کے دوران نظامِ صحت کی تباہی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اور ان کی مشکلات ایک کامیاب زچگی سے ختم نہیں ہو جاتیں۔

نئی ماؤں کو محصور علاقے میں نوزائیدہ بچوں کو زندہ رکھنے کے سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنہیں خوراک اور پانی جیسی بنیادی چیزیں دستیاب نہیں کجا نوزائیدہ بچوں کے لیے گرم میزیں اور انکیوبیٹرز۔

تیزی سے بگڑتے حالات نے 21 سالہ مالک شبات جیسی حاملہ خواتین کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا ہے جنہوں نے اسرائیلی فضائی حملوں سے بچنے کے لیے کئی بار نقلِ مکانی کے بعد جنوبی غزہ کے شہر رفح میں پناہ لی ہے۔

شبات نے کہا، "میں پیدائش دینے سے بہت ڈرتی ہوں،" جن کی زچگی کی مقررہ تاریخ تیزی سے قریب آرہی ہے۔

'نہ ڈاکٹر، نہ بستر'

غزہ میں جنگ کا آغاز حماس کے سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر غیر معمولی حملے سے ہوا جس کے نتیجے میں تقریباً 1,160 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق حماس کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیل کی انتقامی فوجی مہم میں کم از کم 30,631 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

صحت کا نظام تباہ ہو چکا ہے اور اقوامِ متحدہ نے گذشتہ ماہ رپورٹ دی تھی کہ مکمل طور پر فعال ہسپتال نہیں بچے ہیں اور 36 میں سے صرف 12 ہسپتال محدود صلاحیت پر کام کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے اسرائیلی فوج کو پابندیوں کے لیے موردِ الزام قرار دیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ تر امدادی قافلے روک دیئے گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ آبادی فنڈ (یو این ایف پی اے) نے کہا ہے کہ اس کے پاس بچے کی پیدائش میں مدد فراہم کرنے والا 62 پیلیٹس کا سامان ہے جو مصر کی سرحد پر رفح کے باہر روک دیا گیا ہے۔

رفح شہر جہاں تقریباً 1.5 ملین فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی ہے، وہاں اماراتی زچگی ہسپتال میں صرف پانچ کمرے بچے کی پیدائش کے لیے مختص ہیں۔

ان میں سماہ الہیلو بھی شامل ہیں جو اپنے حمل کے آخری مہینے میں رفح پہنچی تھیں لیکن ضروری نگہداشت کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں۔

انہوں نے کہا، "وہ کہتے ہیں کہ مجھے بچے کی پیدائش کے دوران ایک چھوٹی سی سرجری کی ضرورت ہوگی۔ اس میں دو ہفتوں کی تاخیر ہوئی کیونکہ وہاں کوئی ڈاکٹر، کوئی بستر اور کوئی آپریٹنگ روم نہیں تھا۔"

آخرِ کار وہ اپنے بیٹے محمد کو پیدائش دینے میں کامیاب ہو گئیں لیکن ایمرجنسی مریضوں کے لیے جگہ بنانے کی غرض سے ہسپتال نے اگلے دن انہیں فارغ کر دیا یعنی انہیں بے گھر افراد کے لیے ایک خیمے میں واپس جانا پڑا۔

انہوں نے کہا، "بہت سردی تھی؛ صورتِ حال سنگین تھی۔ مجھے لگا میں اپنے بیٹے کو کھو دوں گی۔"

"یہاں خیمے میں ہماری زندگی سخت اور جہنم سے بھی بدتر ہے۔"

ایک فرانسیسی ڈاکٹر رافیل پٹی جنہوں نے حال ہی میں جنوبی غزہ میں امدادی مشن مکمل کیا، کہا کہ اس طرح کے فوری اخراج معمول کی بات ہیں۔

انہوں نے کہا، "جب خواتین بچے کو پیدائش دے دیتی ہیں تو وہ دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑی ہو جاتی ہیں اور ان کا خاندان انہیں لینے آ جاتا ہے۔

"ہسپتال فالو اپ اپائنٹمنٹ دینے سے قاصر ہوتا ہے... یہ ناممکن ہے کیونکہ وہاں کئی لوگ آ رہے ہیں۔"

کئی خواتین نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں گدے اور چادریں ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی تھی اگر وہ بچے کی پیدائش کے بعد ہسپتال میں رہنا چاہتی تھیں۔"

دوسری خواتین کو ہسپتال کے ناصاف فرشوں پر حتیٰ تک کہ گلی میں بھی ڈیلیوری کرنی پڑی۔

'ہمارے خوفناک خوابوں سے بھی بدتر'

زچگی میں جانے سے کہیں پہلے کئی حاملہ خواتین کی -- اور ان کے ہونے والے بچوں کی صحت -- جنگ کے دوران سہولیات کی قلت سے سمجھوتہ کر چکی ہے۔

یو این ایف پی اے نے گذشتہ ماہ ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ناصاف بیت الخلاء اور غسل خانے کا مطلب تھا کہ پیشاب کی نالی کے خطرناک انفیکشن بڑے پیمانے پر پھیل رہے تھے۔

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ غزہ میں 95 فیصد حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین کو "شدید غذائی غربت" کا سامنا ہے۔

رفح میں ایک خیمے میں 20 دیگر افراد کے ساتھ رہائش پذیر روز ہندوی جو تین جڑواں بچوں کی حاملہ ہیں، مسلسل غنودگی کا شکار رہتی ہیں۔

جنگ شروع ہونے کے بعد سے کافی پروٹین والا کھانا-- کچھ انڈے -- انہوں نے صرف ایک بار کھایا ہے۔

فلسطینی علاقوں کے لیے یو این ایف پی اے کے نمائندہ ڈومینک ایلن نے کہا، "خطے میں بہت سے بحران ہیں جو حاملہ خواتین کے لیے تباہ کن ہیں۔"

لیکن غزہ کی آبادی کی گنجانی اور محفوظ مقامات کی عدم موجودگی کی وجہ سے انہوں نے کہا غزہ کی صورتِ حال "ہمارے خوفناک خوابوں سے بھی بدتر ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں