بائیکاٹ کی وجہ سے، سٹاربکس کا مشرق وسطیٰ میں 2,000 ملازمین کو فارغ خطی دینے کا اعلان

اسرائیل ۔ فلسطین جنگ کے بعد عالمی برانڈ کی بائیکاٹ مہم کی وجہ سے کمپنی کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

خلیجی خطے میں خوردہ کمپنی اور مشرق وسطیٰ میں اسٹار بکس فرنچائز کا مالک الشایع گروپ غزہ جنگ کے بعد صارفین کے بائیکاٹ سے ہونے والے نقصان کی وجہ سے اپنے دو ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ذرائع نے، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے مزید کہا کہ ملازمتوں کو ختم کرنے کے عمل کا جو اتوار کو شروع ہوا تھا، کا مقصد الشایع میں کل افرادی قوت کے تقریباً 4 فیصد کو فارغ کرنا ہے، جس کی تعداد تقریباً 50،000 ہے، اور زیادہ تر توجہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں سٹاربکس کی شاخوں پہ مرکوز ہے۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ بائیکاٹ کی مہم کمپنی کے کام کرنے کے حالات میں مشکلات کا باعث بنی۔


الشایع نے ایک بیان میں کہا، "گذشتہ چھ ماہ کے دوران جاری مشکل کاروباری حالات کے نتیجے میں، ہم نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں سٹار بکس کیفے میں ساتھیوں کی تعداد کو کم کرنے کا ایک بدقسمتی اور انتہائی مشکل فیصلہ کیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت محنت کریں گے کہ ہم اپنے ساتھیوں اور ان کے اہل خانہ کو وہ مدد فراہم کریں جس کی انہیں ضرورت ہے۔"

سٹاربکس کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا: "ہمیں سٹاربکس کے ان ملازمین کے ساتھ ہمدردی ہے جنہیں نوکری سے نکال دیا جائے گا، اور ہم ان کے تعاون کے لیے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "اسٹاربکس اس اہم خطے میں طویل مدتی ترقی حاصل کرنے کے لیے الشایع کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔"

کویت میں 1890 میں قائم کیا گیا، الشایع گروپ خطے کی سب سے بڑی ریٹیل فرنچائزز میں سے ایک ہے اور اس کے پاس مشہور مغربی برانڈز جیسے چیز کیک فیکٹری اور شیک شاک کے آپریٹنگ حقوق ہیں۔

اسے 1999 سے مشرق وسطیٰ میں سٹاربکس کیفے چلانے کے حقوق حاصل ہیں۔ سٹاربکس یونٹ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور وسطی ایشیا کے 13 ممالک میں تقریباً 2,000 آؤٹ لیٹس چلاتا ہے۔

تین باخبر ذرائع نے گڈشتہ ماہ رائٹرز کو بتایا کہ امریکی پرائیویٹ ایکویٹی فرم اپولو گلوبل مینجمنٹ سٹاربکس کے کاروبار میں حصہ خریدنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔

7 اکتوبر کو فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے حملے کے جواب میں غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے فوجی حملے کی وجہ سے مغربی برانڈز بڑے پیمانے پر بے ساختہ مقبول بائیکاٹ مہمات کا شکار ہیں۔

سٹاربکس نے اکتوبر میں بائیکاٹ کی مہم کے بعد کہا تھا کہ یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے اور اس نے ان افواہوں کی تردید کی کہ اس نے اسرائیلی حکومت یا فوج کو مدد فراہم کی ہے۔

سٹاربکس نے جنوری میں کہا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ نے خطے میں اس کے کاروبار کو نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے پہلی سہ ماہی کے نتائج توقعات سے کم رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ اور امریکہ میں تنازعات کی وجہ سے فروخت بہت متاثر ہوئی، کیونکہ کچھ صارفین نے احتجاجی مظاہرے کیے، بائیکاٹ کی مہم چلائی، اور کمپنی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر کوئی موقف اختیار کرے۔

جنوری میں، الشایع گروپ نے ملک کے جاری معاشی مسائل کی وجہ سے مصر میں اپنے آپریشنز میں کمی کا اعلان کیا، جس میں کرنسی کی کئی بار قدر میں کمی اور افراط زر کا ریکارڈ سطح تک پہنچ جانا شامل تھا۔

الشایع نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سے اسٹورز کو بند کرے گا یا انہیں کب بند کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں