فلسطین اسرائیل تنازع

برطانیہ غزہ میں 'خوفناک' قحط پر اسرائیل کو خبردار کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیرِ خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ برطانیہ بدھ کو اسرائیل کو خبردار کرے گا کہ غزہ میں "خوفناک مصائب" پر اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے جہاں امداد کی کمی لوگوں کو بھوکے مرنے پر مجبور کر رہی ہے۔

کیمرون جو بدھ کے روز اسرائیلی جنگی کابینہ کے رکن بینی گانٹز سے ملاقات کرنے والے ہیں، نے منگل کو تادیر پارلیمنٹ کو بتایا کہ قابض طاقت کے طور پر اسرائیل کی جانب سے غزہ کے لیے امداد کی فراہمی نے بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر سوالات اٹھائے ہیں۔

کیمرون نے ایوانِ بالا کو بتایا، "ہمیں غزہ میں خوفناک مصائب کی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ میں نے کچھ ہفتے پہلے اس کے قحط میں بدل جانے اور بیماری کے بڑے امراض میں بدل جانے کے خطرے کے بارے میں بات کی تھی۔ اور اب ہم اس مقام پر ہیں۔"

"لوگ بھوکے مر رہے ہیں؛ لوگ دوسری صورت میں قابلِ انسداد بیماریوں سے مر رہے ہیں۔"

سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے جواب میں امریکہ کی طرح برطانیہ نے ابتدائی طور پر غزہ پر اسرائیل کے حملے کی حمایت کی۔

لیکن سابق وزیرِ اعظم کیمرون نے حالیہ ہفتوں میں جنگ بندی کے مطالبات تیز کر دیئے ہیں کیونکہ فلسطینی صحت کے حکام نے اسرائیل کے ہاتھوں ہلاک شدگان کی تعداد 30,000 بتائی ہے اور اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ بہت سے لوگ فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں۔

کیمرون نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ فروری میں غزہ کے لیے جانے والی امداد جنوری میں پہنچائی جانے والی امداد کے مقابلے میں نصف تھی۔

انہوں نے کہا کہ صبر کا پیمانہ اب بہت لبریز ہو جانا چاہیے اور انتباہات کا ایک پورا سلسلہ دینے کی ضرورت ہے جس کا آغاز مجھے امید ہے کہ وزیر گانٹز کے ساتھ میری ملاقات سے ہو گا جب کل وہ برطانیہ کا دورہ کریں گے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے سیاسی حریف گانٹز کو ایسا ہی پیغام ملا جب انہوں نے پیر کو واشنگٹن میں امریکی نائب صدر کملا ہیرس سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ کے لیے ایک "قابلِ اعتماد" انسانی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت تھی جب انہوں نے پہلے خبردار کیا تھا کہ وہاں کے حالات "غیر انسانی" ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی اداروں نے اسرائیل پر غزہ کی امداد کو روکنے یا محدود کرنے کا الزام لگایا ہے جس کی وہ تردید کرتا ہے۔

کیمرون نے کہا کہ بہت ساری اشیاء کو مسترد کر کے غزہ بھیجنے سے روک دیا گیا ہے کیونکہ وہ "فرضی طور پر دوہرے استعمال کی اشیاء ہیں"۔ (دوہرے استعمال کی اشیاء وہ ہوتی ہیں جو عام انسانی/سویلین ضروریات کے علاوہ فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہیں)

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور شہریوں کے لیے امداد کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس نے کسی بھی ترسیل کے مسائل کے لیے اقوامِ متحدہ کو مورد الزام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امداد کی مقدار اور رفتار پر پابندیاں اقوامِ متحدہ اور دیگر ایجنسیوں کی صلاحیت پر منحصر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں