فلسطین اسرائیل تنازع

تمام اسرائیلی قیدیوں کے بدلے غزہ میں چھ ہفتےکی جنگ بندی کی امریکی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں جنگ بندی سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد کے مسودے میں امریکہ کی طرف سے تبدیلی کے بعد اقوام متحدہ کے ایک سفارت کار نےاس کی کچھ تفصیلات بتائی ہیں۔

انہوں نے بدھ کے روز ’سی این این‘ کو بتایا کہ امریکہ کی طرف سے پیش کردہ نئے مسودہ قرارداد میں غزہ میں "فوری اور عارضی" جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ پٹی میں زیر حراست تمام اسرائیلی قیدیوں کو آزاد کیا جا سکے۔

سفارت کار نےاپنی شناخت مخفی رکھنےکی شرط پر بتایا کہ قرارداد کا مسودہ تقریباً چھ ہفتوں کے لیے فوری جنگ بندی کے معاہدے کی حمایت کرتا ہے جس میں فریقین کے رضامندی کے بعد تمام قیدیوں کی رہائی ہوگی۔

تین قراردادوں کے خلاف امریکی ویٹو

یاد رکھیں کہ قرارداد کو منظور کرنے کے لیے سلامتی کونسل میں اسے کم از کم نو حمایتی ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین، یعنی امریکہ، فرانس، برطانیہ، روس اور چین میں سے کسی کی طرف سے ویٹو کیے جانے پر قرارداد ناکام ہوجاتی ہے۔

امریکہ نے پہلے بھی لفظ "جنگ بندی" کے استعمال کی مخالفت کی تھی اور ایک سے زیادہ بار کہا تھا کہ جنگ بندی کے حوالے سے فیصلہ اسرائیلی قیادت کرے گی۔

غزہ کے بچے کھانے کے منتظر ہیں۔
غزہ کے بچے کھانے کے منتظر ہیں۔

جبکہ اس نے پانچ ماہ کی جنگ کے دوران سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے پیش کی گئی تین قراردادوں کے خلاف اپنا ویٹو پاور کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں اسرائیل کو جنگ جاری رکھنے کے لیے نیا حوصلہ ملا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ نیا امریکی اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے اپنے اتحادی اسرائیل پر غزہ میں انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دینے، جنگ بندی اور فلسطینی شہریوں میں ہلاکتوں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے مزید کوششیں کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں