جنگ بندی: مذاکرات میں اسرائیل کی عدم شرکت کے باوجود حماس کا شرکت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی تحریک مزاحمت حماس نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ قاہرہ میں جاری جنگ بندی مذاکرات میں اسرائیلی عدم شرکت کے باوجود حماس مذاکرات کا حصہ بنی رہے گی۔ قطری اور مصری مذاکرات کار قاہرہ میں جاری اجلاس کے دوران اس کوشش میں ہیں کہ غزہ میں چالیس دنوں کے لیے جنگ بندی ممکن بنالی جائے۔

تاکہ دس یا گیارہ مارچ کو امکانی طور پر شروع ہونےوالے رمضان المبارک میں غزہ کے بے گھر فلسطینی بھی روزے رکھ سکیں اور تلاوت و تراویح کا اہتمام کر سکیں۔

واضح رہے امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک روز پہلے کہا تھا کہ جنگ بندی قریب ہے لیکن اس کا انحصار حماس پر ہے کہ معاہدے کو قبول کرتی ہے یا نہیں۔ اہم بات ہے کہ اسرائیل نے ان مذاکرات سے خود کو فاصلے پر کر لیا ہے ۔ جبکہ حماس نے اس کے باوجود مذاکرات کا حصہ رہنے کا اعلان کر دیا ہے۔۔

حماس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ہر طرح کی اسرائیلی جارحیت کے مکمل خاتمے کے لیے ہم اپنے رویے میں لچک دکھا رہے ہیں مگر قابض اسرائیلی معاہدے سے بھاگنے کی کوشش میں ہیں۔ ' بیان میں مزید کہا گیا ' ہم ہر روز درجنوں شہدا کی صورت میں قیمت دے رہے ہیں۔ ہم جنگ بندی کرنا چاہتے ہیں۔'

حماس کے سینئیر رہنما باسم نعیم کی طرف سے اس موقع پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ 'حماس نے اپنا تیار کردہ مسودہ پیش کیا ہے ۔ جس پر اسرائیلی جواب کا انتظار ہے۔ اس لیے گیند حماس کی کورٹ میں نہیں امریکہ کی کورٹ میں ہے۔ '

حماس کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ واشنگٹن سے تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری سے اسرائیل کو بچایا جا سکے۔

اسرائیل کی طرف سے مذاکرات سے دوری کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ حماس نے یرغمالیوں کی پوری فہرست دینے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم حماس کا موقف یہ ہے کہ یرغمالی مختلف جگہوں پر بکھرے ہوئے ہیں۔ ان کے بارے میں حتمی طور پر کچھ جنگ بندی کے بعد ہی کہا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں