حماس اسرائیل کے ساتھ فوری جنگ بندی قبول کرے: بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے قاہرہ میں قطری اور مصری ثالثوں کے ساتھ ت مذاکرات دوران حماس سے اسرائیل کے ساتھ "فوری جنگ بندی" کو قبول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بلنکن نے واشنگٹن میں قطری وزیر اعظم کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران کہا کہ "ہمارے پاس ایک فوری جنگ بندی کا موقع ہے جو یرغمالیوں کو ان کے گھروں کو واپس کر سکتا ہے۔ غزہ میں جنگ سے متاثرفلسطینیوں تک پہنچنے والی انسانی امداد کے حجم میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے جنہیں اس کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ جنگ بندی کسی حل تک پہنچنے کی راہ ہموار کرنے میں مدد دے سکتی ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ حماس پر منحصر ہے کہ وہ اس جنگ بندی میں شرکت کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ہم حماس سے کہتےہیں کہ وہ فوری جنگ بندی قبول کرے"۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے العربیہ/الحدث کو تصدیق کی کہ واشنگٹن غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کی فوری رہائی کی حمایت کرتا ہے۔

مذاکرات کی توسیع

اس سے قبل منگل کو حماس کے ایک رہ نما نے تصدیق کی ہے کہ تحریک کے مذاکرات کار ایک اور دن قاہرہ میں رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کار ثالثوں کی درخواست پر مزید بات چیت کے لیے قیام کریں گے، تاکہ دو دن بغیر کسی پیش رفت کے گذر جانے کے بعد جنگ بندی مذاکرات جاری رہیں۔

حماس رہ نما نے رائیٹرزکو بتایا کہ "یہ وفد مزید بات چیت کے لیے آج منگل کو قاہرہ میں رہے گا اور توقع ہے کہ بات چیت کا یہ دور دن کے اختتام پر ختم ہو جائے گا"۔

یہ امید تھی کہ قاہرہ مذاکرات جنگ میں پہلی طویل مدتی جنگ بندی تک پہنچنے سے پہلے آخری پڑاؤ ہوں گے جس کے بعد 40 دن کی جنگ بندی کا اعلان کیا جائے گا۔

جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح میں ایک گھر پر اسرائیلی حملے کے مقام پر فلسطینی جمع ہیں۔ رائٹرز
جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح میں ایک گھر پر اسرائیلی حملے کے مقام پر فلسطینی جمع ہیں۔ رائٹرز

مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنا

قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں اس مسئلے میں رکاوٹ بننے والے مسائل میں شمالی غزہ میں بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی کے ساتھ ساتھ زندہ اسرائیلی قیدیوں کی تعداد اور حماس کا ان "فلسطینی قیدیوں" کی رہائی کا مطالبہ شامل ہیں جنہیں اسرائیلی حکام سکیورٹی قیدی سمجھتے ہیں۔

دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا آخری معاہدہ گذشتہ نومبر کے اواخر میں ہوا تھا، جس کے بعد 7 اکتوبر کو حماس کے زیر حراست 105 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا گیا، جس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے تقریباً 240 فلسطینیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی تھی۔

اب بھی 130 اسرائیلی قیدی غزہ میں موجود ہیں، ان میں سے 30 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بمباری میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں