فلسطین اسرائیل تنازع

رمضان المبارک میں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ سے روکا توحالات بے قابو ہو جائیں گے: گیلنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے وار کیبنٹ کو ماہ رمضان کے دوران فلسطینیوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندیاں عائد کرنے کے خلاف خبردار کیا۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ یروشلم میں کشیدگی میں اضافہ مغربی کنارے کی صورتحال کو بھڑکا دے گا جس سے جنگ کے اہداف کو نقصان پہنچے گا، انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں غزہ اور شمال لبنان کی سرحد سے افواج کا انخلاء ہو سکتا ہے۔

اس سے پہلے اسرائیلی وزیر دفاع نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی آموس ہاکسٹین کو خبردار کیا تھا کہ حزب اللہ کے حملے اسرائیل کو فوجی کارروائی کے قریب لے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے منگل کے روز امریکی خصوصی ایلچی کو بتایا کہ "ہم ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے سیاسی کوششوں کے لیے پرعزم ہیں، لیکن حزب اللہ کی جارحیت ہمیں لبنان میں اس کی فوجی کارروائی کے حوالے سے فیصلے جنگ کے قریب لے آئے ہیں۔

قاہرہ مذاکرات

گیلنٹ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب قاہرہ میں جنگ بندی کی بات چیت جاری ہے، جسے رمضان کے مہینے سے قبل حماس اور اسرائیل کے درمیان 40 روزہ جنگ بندی تک پہنچنے سے پہلے آخری پڑاؤ قرار دیا جاتا ہے، لیکن ابھی تک اس میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔

مغربی کنارے کا منظر
مغربی کنارے کا منظر

مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی تشدد بڑھ رہا ہے، جہاں فلسطینی اتھارٹی 2007ء میں حماس کےہاتھوں غزہ کی پٹی کا کنٹرول کھونے کے بعد محدود خود مختاری کا استعمال کرتی ہے۔

فلسطینی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فورسز نے گذشتہ رات رام اللہ شہر پر برسوں میں اپنا سب سے بڑا حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک پناہ گزین کیمپ میں ایک 16 سالہ لڑکا مارا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں