مشرق وسطیٰ

دنیا کو کیسے پتا چلے گا کہ غزہ میں قحط کب آئے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ امدادی کارروائی نہ ہونے کی صورت میں غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر قحط کا عمل "تقریباً ناگزیر" ہے۔ ایک باضابطہ نتیجہ یہ ہے کہ 2.3 ملین افراد کے ساحلی پٹی میں قحط اگلے ہفتے آ سکتا ہے۔

قحط کیا ہے اور اس کا اعلان کون کرتا ہے؟

مربوط غذائی تحفظ کے مراحل کی درجہ بندی (آئی پی سی) کے ذریعے قحط کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جو اقوامِ متحدہ کی ایک درجن سے زیادہ ایجنسیوں، علاقائی اداروں اور امدادی گروپوں پر مشتمل ہے۔

قحط کا اعلان کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کم از کم 20 فیصد آبادی کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہو، ہر تین میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہو اور ہر 10,000 میں سے دو افراد روزانہ بھوک یا غذائی قلت اور بیماری سے مر رہے ہوں۔

گذشتہ 13 سالوں میں دو بار قحط کا اعلان کیا گیا ہے: 2011 میں صومالیہ میں اور 2017 میں جنوبی سوڈان کے کچھ حصوں میں۔

غزہ میں موجودہ صورتِ حال کا کیا اندازہ ہے؟

دسمبر کے آخر میں آئی پی سی نے کہا کہ غزہ کی صورتِ حال پہلے ہی 20 فیصد کی حد سے تجاوز کر چکی تھی۔

اس میں کہا گیا ہے کہ بقیہ دو حدود سے - شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد اور بھوک یا غذائی قلت اور بیماری سے روزانہ مرنے والے لوگوں کی تعداد - آئندہ مہینوں میں "کسی وقت تجاوز ہو سکتا ہے"۔

اس نے کہا، "مئی 2024 تک اندازے کی مدت میں قحط کا خطرہ ہے اگر موجودہ صورتِ حال برقرار رہے یا خراب ہو جائے۔"

اقوامِ متحدہ نے فروری میں کہا تھا کہ غزہ کے 2.3 ملین افراد میں سے ایک چوتھائی سے زیادہ افراد کے "محرومی اور فاقہ کشی کی تباہ کن سطح کا سامنا کرنے کا تخمینہ" تھا۔ اس نے کہا کہ امدادی کارروائی نہ ہونے کی صورت میں بڑے پیمانے پر قحط "تقریباً ناگزیر" ہو سکتا ہے۔

آئی پی سی مارچ کے وسط تک غزہ کی صورتِ حال کا ایک نیا تجزیہ جاری کرنے والی ہے۔

قحط کا اعلان کرنے کا کیا مطلب ہے؟

اگرچہ قحط کا اعلان کسی رسمی ردِعمل کو متحرک نہیں کرتا لیکن اس سے عالمی توجہ اس بات پر مرکوز کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کس طرح مدد کی جائے۔ لیکن جیسا کہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور نے کہا ہے: "ایک بار قحط کا اعلان ہو جائے تو کئی لوگوں کے لیے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔"

غزہ کی فلاح و بہبود کا ذمہ دار کون ہے؟

اقوامِ متحدہ اسرائیل کو غزہ میں قابض طاقت سمجھتی اور کہتی ہے کہ اسرائیلی فوج کی ذمہ داری ہے کہ وہ انکلیو میں انسانی بنیادوں پر کارروائیوں میں سہولت فراہم کرے۔

جنگ کے قوانین پر 1949 کے جنیوا کنونشنز کے تحت: "قابض طاقت کا فرض ہے کہ وہ دستیاب ذرائع کی مکمل ترین حد تک آبادی کو خوراک اور طبی سامان کی فراہمی یقینی بنائے۔"

اسرائیل کیا کہتا ہے؟

اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ تاریخی فلسطین کے علاقے ہیں جہاں فلسطینی ایک ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔ اسرائیل نے 2005 میں غزہ سے انخلا کیا اور حماس نے 2006 میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ لیکن اسرائیل ہمسایہ مصر کے ساتھ بدستور انکلیو کی سرحدوں کو کنٹرول کرتا ہے۔

اسرائیلی رہنما طویل عرصے سے یہ استدلال کرتے رہے ہیں کہ غزہ اور مغربی کنارے پر اس بنیاد پر باقاعدہ قبضہ نہیں ہے کہ وہ 1967 کی جنگ کے دوران اردن اور مصر سے حاصل کیے گئے تھے نہ کہ ایک خودمختار فلسطین سے۔ اسرائیل اس سرزمین سے یہودی لوگوں کے تاریخی اور بائبل میں بیان کردہ روابط پر بھی زور دیتا ہے۔

غزہ میں انسانی صورتِ حال اتنی مخدوش کیوں ہے؟

غزہ میں جنگ اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے مزاحمت کاروں نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کیا جس میں اسرائیل کے مطابق 1,200 کے قریب افراد ہلاک ہوئے اور 253 افراد کو اسیر کر لیا گیا۔ اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ابتدائی طور پر غزہ کا "مکمل محاصرہ" کر لیا اور حماس کے زیرِ انتظام علاقے میں صحت کے حکام کے مطابق تب سے اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملے کے نتیجے میں تقریباً 30,000 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

فی الحال امداد مصر سے رفح اور اسرائیل سے کرم شالوم کی گذرگاہوں کے ذریعے جنوبی غزہ تک پہنچائی جا سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’اونروا‘ نے کہا ہے کہ فروری کے دوران اوسطاً روزانہ تقریباً 97 ٹرک غزہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے جبکہ جنوری میں یہ تعداد تقریباً 150 ٹرک یومیہ تھی جو 500 ٹرکوں کے ہدف سے کافی کم ہے۔

اقوامِ متحدہ نے امدادی رسائی کو "ناقابلِ پیش گوئی اور ناکافی" قرار دیا ہے جس کا الزام فوجی کارروائی، عدم تحفظ اور ضروری سامان کی ترسیل پر وسیع پابندیوں پر عائد کیا ہے۔

خاص طور پر اقوامِ متحدہ حوالہ دیتا ہے: سرحدی گذرگاہ کی بندش، نقل و حرکت پر سنگین پابندیاں، رسائی سے انکار، جانچ پڑتال کے سخت طریقۂ کار، سیکورٹی کے خطرات، مایوس شہریوں کے واقعات، امن و امان کی خرابی اور مواصلات اور حفاظتی آلات پر پابندیاں۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور شہریوں کے لیے امداد کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس نے کسی بھی ترسیل کے مسائل کے لیے اقوامِ متحدہ کو مورد الزام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امداد کی مقدار اور رفتار پر پابندیاں اقوامِ متحدہ اور دیگر ایجنسیوں کی صلاحیت پر منحصر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں