2021 کی مہلک افراتفری کی ذمہ داری اسرائیل کے وزیرِ اعظم پر عائد ہوتی ہے: تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بدھ کے روز اسرائیل کی بدترین شہری تباہی کی ایک تحقیقات سے پتہ چلا کہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو 2021 میں ہونے والی مہلک افراتفری کے "ذاتی طور پر ذمہ دار ہیں" جس میں 45 یہودی زائرین ہلاک ہوئے۔

ماؤنٹ میرون زیارت گاہ پر افراتفری کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے والے کمیشن نے کہا، "وزیراعظم خود یا اپنی طرف سے کسی طریقۂ کار کے ذریعے ایسے مسائل کی نشاندہی کرنے کے ذمہ دار ہیں جن پر ان کے دفتر کی توجہ اور اگر ضروری ہو تو مداخلت درکار ہو بالخصوص انسانی جانوں کے خطرے سے متعلق معاملات۔"

دسیوں ہزار الٹرا آرتھوڈوکس یہودی 30 اپریل 2021 کو دوسری صدی کے معروف ربی شمعون بار یوچائی کے مقبرے کی سالانہ زیارت کے لیے ماؤنٹ میرون پر جمع ہوئے تھے جو لبنان کے ساتھ اسرائیل کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

خیال ہے کہ صنفی طور پر الگ کیے گئے ہجوم کے مردانہ حصے میں افرتفری اس وقت شروع ہوئی جب لوگ ایک تنگ راستے سے گذرے جو مہلک ثابت ہوا۔

ہلاک شدگان میں کم از کم 16 بچے اور نوجوان شامل ہیں۔

تحقیقات میں پتا چلا کہ 2008 سے سانحہ کے دن تک وزیرِ اعظم کے دفتر کو مقبرے کے ارد گرد زیادہ ٹریفک کی وجہ سے ممکنہ خطرات کے بارے میں متعدد مواقع پر مطلع کیا گیا تھا۔ نیتن یاہو ان میں سے 12 سالوں تک اقتدار میں رہے۔

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا، "نیتن یاہو جانتے تھے کہ رشبی کے مقبرے کی جگہ کی کئی سالوں سے بخوبی نگہداشت نہیں کی گئی تھی اور یہ کہ اس جگہ پر آنے والوں کی کثیر تعداد کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا تھا بالخصوص لگ باؤمر کی چھٹیوں میں۔"

اس میں مزید کہا گیا کہ نیتن یاہو نے اس صورتِ حال کو درست کرنے کے لیے وزیر اعظم سے وابستہ توقع کے مطابق کام نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں