فلسطین اسرائیل تنازع

اردن نےمقبوضہ مغربی کنارے میں 3500 نئی بستیوں کی تعمیر کےاسرائیلی منصوبےکومسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ملک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یروشلم کے قریب 3,500 نئے آبادکاری گھر تعمیر کرنے کے اسرائیل کے منصوبے کی مذمت کی۔

وزارت نے بدھ کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کے ان منصوبوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے جن کا مقصد خطے میں موجودہ تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

اسرائیلی وزراء بیزالل سموٹریک اور اورٹ سٹروک کے بیانات کے مطابق اسرائیلی آبادکاری کی منصوبہ بندی کرنے والے ایک ادارے نے یروشلم کے قریب مغربی کنارے کی بستیوں میں 3,500 نئے مکانات کے لیے اجازت نامہ دے دیا ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ یہ مکانات مالے ادومیم، کیدار اور افرات کی اسرائیلی بستیوں میں تعمیر کیے جائیں گے جو یروشلم کے قریب ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ خزانہ سموٹریک نے کہا کہ نئی طے شدہ بستیوں سے مقبوضہ مغربی کنارے کے لیے منظور شدہ 18,515 مکانات کی ریکارڈ تعداد میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے بدھ کے روز ایکس پر لکھا، "دشمن ہمیں نقصان پہنچانے اور کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم اس سرزمین پر تعمیر جاری رکھیں گے۔"

زیادہ تر عالمی طاقتیں بستیوں کو غیر قانونی سمجھتی ہیں لیکن اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی دعوؤں کا حوالہ اور اسے حفاظتی حصار قرار دیتے ہوئے اس بات سے اختلاف کرتا ہے۔

آباد کار اسرائیلی شہری ہیں جو مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں نجی فلسطینی زمینوں پر رہتے ہیں۔ زیادہ تر بستیاں مکمل یا جزوی طور پر نجی فلسطینی اراضی پر تعمیر کی گئی ہیں۔

700,000 سے زیادہ آباد کار – اسرائیل کی تقریباً سات ملین آبادی کا 10 فیصد – اب مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں 150 بستیوں اور 128 چوکیوں میں رہتے ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت نے بستیوں کو فروغ دیا ہے جس سے ملک کا ایک اہم اتحادی امریکہ ناراض ہو گیا ہے جو غزہ میں حماس کے ساتھ جاری جنگ میں تل ابیب کا سب سے بڑا حمایتی ہے۔

24 فروری کو امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا واشنگٹن مغربی کنارے کی بستیوں کو بین الاقوامی قانون سے متصادم سمجھتا ہے اور سابقہ امریکی مؤقف پر واپس آ گیا ہے جسے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے الٹ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں