جنگ روکنے کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہوں گے ، رفح پر بھی ضرور حملہ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے آرمی کے افسروں کی تربیت کے لیے قائم سکول میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'جنگ روکنے کے لیے عالمی سطح سے آنے والے دباؤ کے خلاف ہمیں متحد ہو کر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے اور میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حماس کے خلاف رفح سمیت ہر جگہ اور ہر سطح پر جارحانہ وار کیے جائیں گے۔'

نیتن یاہو نے کہا 'جیسے جیسے باہر کی دنیا سے ہم پر جنگ روکنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے ہمیں حماس کو پیچھے دھکیلنے کے لیے ہمیں اپنی کوششیں تیز کرنی چاہییں۔' واضح رہے اسرائیلی وزیراعظم نے یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں کی ہے جب غزہ میں جنگ کا چھٹا ماہ شروع ہوگیا ہے۔ تقریبا 31 ہزار فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔ 23 لاکھ فلسطینی بےگھر کیے جا چکے ہیں اور خود اسرائیل کی جنگی کابینہ کے اندر اختلافات کی شدت بین الاقوامی سطح پر زیر بحث آرہی ہے۔

غالباً اسی پس منظر میں انہوں نے فوج کے تربیتی سکول میں متحد ہو کر کھڑے ہونے کی اپیل کی ہے۔ نیتن یاہو نے رفح میں تقریباً 15 لاکھ بے گھر فلسطینیوں کی موجودگی کے باوجود اسے منظم جنگی یلغار کا نشانہ بنانے کے اپنے ارادے کا اعادہ کیا ہے۔ واضح رہے رفح کا شہر غزہ کے انتہائی جنوب میں مصری سرحد پر واقع ہے۔ جس کی راہداری کو آج کل اسرائیل نے عملاً معطل کر رکھا ہے اور رفح پر حملے کی منظم تیاری جاری ہے۔

انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ 'اسرائیل غزہ میں اپنا عمل دخل جاری رکھے گا اور رفح سے بھی حماس کا صفایا کرتے ہوئے اس کے مضبوط گڑھ کو ختم کرے گا۔' نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ 'جو بھی ہمیں کہہ رہا ہے کہ رفح میں جنگ نہ کرو، وہ ہمیں جنگ ہارنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں