سعودی عرب: جدہ میں پہلی صدی ہجری کےدور کے آبنوس کی لکڑی کےدو ستون دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے تاریخی جدہ پروگرام نے عثمان بن عفان مسجد میں آبنوس کی لکڑی کےدو ستون دریافت کیے ہیں۔ یہ دونوں ستون پہلی اور دوسری صدی ھجری بہ مطابق ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی کے ہیں۔ یہ اس جگہ سے دریافت ہونے والی دو قدیم ترین لکڑی کے نمونے ہیں۔

کھدائی کرنے والی ٹیموں کو مسجد کے محراب سے نایاب آبنوس کی لکڑی سے بنے دو ستون ملے۔ امکان ہے کہ وہ ابتدائی اسلامی دور سے تعلق رکھتے ہیں خاص طور پر پہلی اور دوسری صدی ہجری (ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی) کے دوران تیار کیے گئے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ستون مسجد کی تعمیر کے اتبدائی مرحلے میں نصب کیے گئے تھے۔ انہیں مسجد کی تعمیر کے دوران محراب کے نچلے اطراف کی آرائش کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

برلن میں جرمن آرکیالوجیکل انسٹی ٹیوٹ میں کیے گئے سائنسی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ستون نایاب آبنوس کی لکڑی کی بہترین قسم کے ہیں۔ کیونکہ یہ لکڑی بحر ہند کے جزیرہ سیلان میں پائی جاتی ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ نے 52 تاریخی عمارتوں سے لکڑی کے 250 سے زیادہ نمونے خصوصی بین الاقوامی لیبارٹریوں میں مطالعہ کے لیے منتقل کیے تاکہ ان کے درختوں کے اور عمروں کا تعین کیا جا سکے۔

عثمان بن عفان مسجد میں اب تک تقریبا سات تعمیراتی مراحل میں تیار ہوچکی ہے۔موجودہ سائنسی مطالعات کے ابتدائی نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کا قدیم ترین حصہ تیسری اور پانچویں صدی ہجری (نویں اور گیارہویں صدی عیسوی) کا ہے۔

یہ قابل ذکرہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مسجد میں دو ستونوں کی دریافت آثار قدیمہ کی دریافتوں کے ایک گروپ کا حصہ ہے جس کا اعلان تاریخی جدہ پروگرام نے آثار قدیمہ کے منصوبے کے پہلے مرحلے کے نتائج کے دوران کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں تاریخی جدہ میں 4 آثار قدیمہ کے مقامات سے 25 ہزار آثار قدیمہ کی باقیات دریافت ہوئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں