غزہ جنگ کاچھٹاماہ شروع ،اسرائیل نے قبروں سےنکالی گئی 47 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل نے حالیہ مہینوں کے دوران غزہ میں مختلف مقامات پر موجود قربرستانوں سے نکالی گئی 47 فلسطینیوں کی لاشیں غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کو واپس کر دی ہیں۔ یہ حالیہ پانچ مہینوں کی جنگ کے دوران دوسرا واقعہ ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کی قبریں اکھاڑ کر لاشیں واپس غزہ بھیجی گئی ہیں۔

تاہم اب کی بار واپس بھیجی گئی ان لاشوں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 47 ہے جو مختلف اوقات میں غزہ میں بمباری اور اسرائیلی حملوں کی زد میں آکر ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی ہیں۔ ان لاشوں کو ان کے لواحقین نے اپنے قریبی قبرستانوں میں دفن کیا تھا۔ مگھر بعدازاں اسرائیلی فوج قبریں اکھاڑ کر ان میں سے لاشیں نکال کر لی گئی تھی۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے اس بہیمانہ اور وحشیانہ کارروائی کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ اس نے ان لاشوں کو اس لیے نکال کر اسرائیل لے جانے کا اہتمام کیا تھا کہ یہ لاشیں کہیں اس کے اپنے یرغمالیوں کی تو نہیں ہیں۔

واضح رہے یہ اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے کہ آج کی مہذب دنیا میں مہذب ترین ملکوں کا سب سے قریبی اتحادی اسرائیل فلسطینیوں کی لاشوں کے ساتھ یہ سلوک کر رہا ہے۔ تاہم اس بارے میں ابھی تک کسی انسانی حقوق کے ادارے یا بین الاقوامی فورم نے نوٹس نہیں لیا ہے کہ اسرائیل انسانی لاشوں کے ساتھ اس طرح توہین آمیز سلوک کیوں روا رکھے ہوئے ہیں۔

جمعرات کے روز فلسطینی وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل کی طرف سے قبروں سے نکالی گئی 47 لاشیں رفح کے ہسپتال النجار میں بھجوائی گئی ہیں۔ تاہم وزارت صحت نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اسرائیلیوں نے اب تک مجموعی طور پر فلسطینی شہداء کی کتنی قبروں سے لاشیں نکالی تھیں اور ان میں سے کتنی واپس بھیجی ہیں۔

اس سے پہلے واپس کی گئی فلسطینیوں کی لاشوں کی کئی ہفتے پہلے غزہ میں دوبارہ تدفین کی گئی تھی۔ اس وقت عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں کی قبریں اکھاڑ کر ان میں سے لاشیں نکال لی تھیں جو دوبارہ کافی دنوں بعد واپس کی گئیں۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کی قبریں اکھاڑ کر نکالی گئیں لاشوں کو میڈیا سے وابستہ لوگوں نے بھی دیکھا تھا۔ وہ لاشیں وزارت صحت کے مطابق نومبر، دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں قبروں سے نکال کر اسرائیل لے جائی گئی تھیں۔

غزہ میں جاری جنگ سے بہت پہلے بھی اسرائیلی فوج اور حکومت کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ شہید کیے گئے فلسطینیوں کی لاشیں بھی کئی کئی مہینوں تک اپنے پاس قید رکھتی تھی اور بعدازاں بہت تردد اور کاوشوں کے نتیجے میں 'اسیر لاشوں' کو واپس کیا جاتا تھا۔

اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے کئی سو فلسطینیوں کی لاشیں قبروں سے نکالی جا چکی ہیں۔ قبروں سے نکالی گئی فلسطینیوں کی ان لاشوں کو اسرائیل اس لیے منتقل کیا گیا تھا تاکہ یہ یقین ہو سکے کہ یہ اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں نہیں ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد ان کی دفن شدہ لاشوں کے نکالنے اور بعدازاں واپس غزہ بھجوانے کے بارے میں اسرائیلی فوج سے پوچھا تو فوج کی طرف سے جواب دیا گیا کہ ہم اس کو دیکھ رہے ہیں کہ یہ لاشیں واپس غزہ کیسے پہنچی ہیں اور کیا رپورٹ ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں