فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ: پناہ گاہ بلڈوزروں سے تباہ ، 15 سالہ فلسطینی بچی کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے خان یونس کے باہر پناہ گزین کیمپ پر بلڈوزر چلا دیے۔ 15 سالہ فلسطینی بچی ہالہ کے خاندان کے چھ افراد شہید جبکہ ہالہ کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا ہے۔

ہالہ کے ماموں محمد الصباغ نے ہالہ سے اس وقت فون پر بات کی تھی جب وہ ملبہ میں دبی ہوئی تھی۔ اس موقع پر محمد الصباغ نے اپنی بھانجی کو ہمت جمع رکھنے کو کہا تھا۔

اسرائیلی فوج نے ہفتہ کے روز خان یونس کے پناہ گزین کیمپ پر بلڈوزروں سے چڑھائی کی تھی۔ منگل کے روز ہالہ کو ملبے سے نکالنے میں کامیابی ملی۔ جبکہ اس کے والدین سمیت خاندان کے چھ لوگوں کی ہلاکت ہو چکی تھی۔

ہالہ اپنے خاندان والوں کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد شمالی غزہ سے خان یونس پہنچی تھی۔ جہاں اسرائیلی فوج نے پناہ گزین کیمپ پر بلڈوزر چلادیے۔ ہالہ نے بتایا 'اسرائیلی فوج نے میرے خاندان کے ہر فرد کو نشانہ بنایا۔' میری بہن بسنت نے مجھ سے کہا تھا 'مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ میرے پاؤں پر ملبہ ہے، میں ہل نہیں سکتی ہوں۔' اس کے بعد میری بہن نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔'

وزارت صحت کے مطابق 30717 فلسطینی اسرائیلی جنگ کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔ جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ خیال رہے 23 لاکھ فلسطینی بےگھر ہو چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ہالہ نے بتایا 'مجھے ملبہ سے نکالنے کے لیے لوہے کی سلاخوں کو کاٹا گیا۔ جب مجھے باہر نکال لیا گیا تو مجھے سٹریچر پر بٹھایا۔' ہالہ نے مزید کہا 'میرے والد خون میں لت پت ہیں۔ وہ پہلے سانس لے رہے تھے لیکن اب نہیں۔'

ہالہ جس ذہنی صدمے سے گزری ہے اس کی صحت کو ٹھیک ہونے میں بہت وقت درکار ہوگا۔ اس نے اپنے خاندان کے ہر فرد کو کھو دیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں اس کی 19 سالہ بہن بھی شامل ہے۔ ہالہ نے اپنے والد کو خون میں لت پت دیکھا ہے۔

ہالہ نے مزید کہا 'میں بچ گئی ہوں۔ لیکن میں نے اپنے خاندان کو کھو دیا ہے۔ میں نے اپنی بہن اور والد کو ملبہ میں پڑا دیکھا تھا۔ انہیں ملبہ سے نہیں نکالا جاسکا ہے۔ میں انہیں الوداع کرنے کے لیے دیکھنا چاہتی ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں