ایرانی حکام مھسا امینی پر جسمانی تشدد کے ذمہ دار ہیں: اقوام متحدہ کی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اقوامِ متحدہ کے حقائق تلاش کرنے والے مشن نے جمعہ کو کہا کہ ایران اس "جسمانی تشدد" کا ذمہ دار ہے جس کی وجہ سے ستمبر 2022 میں مہسا امینی کی موت واقع ہوئی اور یہ ملک کے لازمی سر کے اسکارف یا حجاب، قوانین اور اس کی حکمران ملائیت کے خلاف ملک گیر احتجاج کا سبب بنا۔

ایران کے بارے میں حقائق تلاش کرنے والے مشن نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو ایک وسیع پیمانے کی ابتدائی رپورٹ پیش کی جس میں یہ واضح اعلان سامنے آیا ہے۔

اس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ اسلامی جمہوریہ نے امینی کی موت کے بعد پھوٹنے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے "مہلک طاقت کا غیر ضروری اور غیر متناسب استعمال" کیا اور یہ کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

مہینوں تک جاری رہنے والے سکیورٹی کریک ڈاؤن میں 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور 22,000 سے زیادہ کو حراست میں لیا گیا۔

ایران کی جانب سے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ ایرانی حکام نے مشن کے نتائج پر ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

رپورٹ کے اجراء سے ایران کی حکومت کی رفتار تبدیل ہونے کا امکان نہیں ہے جو اب زیادہ مضبوطی سے سخت گیر لوگوں کے ہاتھ میں ہے جب گذشتہ ہفتے کم ٹرن آؤٹ ووٹ کی بنا پر وہ دوبارہ ملک کی پارلیمنٹ کے انچارج بن گئے۔

البتہ یہ تہران پر اس کے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے، ماسکو کی یوکرین کی جنگ میں روس کو مسلح کرنے اور نوبل امن انعام یافتہ نرگس محمدی سمیت کارکنان کی مسلسل ہراسگی اور قید کے بارے میں مغربی خدشات کے درمیان مزید بین الاقوامی دباؤ کا سبب بنے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے، "یہ مظاہرے خواتین اور نوجوانوں کی قیادت، ان کی پہنچ اور طوالت اور بالآخر ریاست کے پرتشدد ردِعمل کی وجہ سے بے مثال تھے۔"

22 سالہ امینی 16 ستمبر 2022 کو ایک ہسپتال میں انتقال کر گئی تھیں جب انہیں ملک کی اخلاقی پولیس نے مبینہ طور پر حکام کی پسند کے مطابق حجاب نہ پہننے پر گرفتار کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق انہیں ایران کے ووزارا حراستی مرکز میں "دوبارہ سبق" سے گذرنے کے لیے لایا گیا تھا لیکن 26 منٹ کے بعد وہ گر گئیں اور 30 منٹ بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔

ایران نے ان کی موت کا ذمہ دار ہونے یا ان کو زد و کوب کرنے سے انکار کیا ہے۔ بعض اوقات حکام نے ایک طبی حالت کی طرف اشارہ کیا جو امینی کو بچپن سے سرجری کے بعد لاحق تھی۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ نے اس حالت کو اس کی موت کی وجہ کے طور پر مسترد کر دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پینل نے "مس امینی کے جسم پر صدمے کی موجودگی کو ثابت کیا ہے جو اخلاقی پولیس کی تحویل میں واقع ہوئے۔"

اس میں کہا گیا، "خواتین پر لازمی حجاب کے نفاذ میں اخلاقی پولیس کی طرف سے تشدد کے شواہد اور نمونوں کی بنیاد پر مشن مطمئن ہے کہ مس امینی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔"

البتہ رپورٹ امینی کو نقصان پہنچانے کے لیے خاص طور پر کسی کو مورد الزام قرار دیتے دیتے رہ گئی۔

امینی کی موت کے بعد ہونے والے مظاہروں کا آغاز سب سے پہلے "زن، زندگی، آزادی" کے نعرے سے ہوا۔ تاہم مظاہرین کے نعرے اور چیخ و پکار جلد ہی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف بغاوت کے واضح مطالبات میں بدل گئی۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں پتا چلا کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف "ایسے حالات میں جہاں ان کے لیے موت یا سنگین چوٹ کا کوئی خطرہ نہیں تھا" شاٹ گن، اسالٹ رائفلز اور سب مشین گنز کا استعمال کیا اور یوں غیر قانونی اور ماورائے عدالت قتل کا ارتکاب کیا۔"

اس میں مظاہرین کی آنکھ میں دانستہ گولی مارنے کا نمونہ بھی ملا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "مشن اس طرح کی چوٹوں کے خوفناک اثر کو نوٹ کرتا ہے کیونکہ انہوں نے متاثرین کو مستقلاً اور بنیادی طور پر مظاہرین کی حیثیت سے 'نشان زد' کیا۔"

رپورٹ کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں سے کچھ کو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا جن میں عصمت دری، عصمت دری کی دھمکی، جبری عریانیت،چھیڑ چھاڑ اور ان کے جنسی اعضا کو بجلی کا جھٹکا لگانا شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے، "سکیورٹی فورسز نے خوف پھیلانے اور عورتوں، مردوں اور بچوں کی تذلیل کرنے اور خوف پھیلانے کے لیے جنسی اور صنفی تشدد سے منسلک سماجی اور ثقافتی بدنامی کو اپنے حق میں استعمال کیا۔"

پینل نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس نے 2023 میں نوعمر ارمیتا گارووند کی موت کی تحقیقات جاری رکھیں جو تہران میٹرو پر گرنے کر ہلاک ہو گئی تھیں جس میں کارکنان کا الزام ہے کہ ان پر حجاب نہ پہننے پر حملہ ہوا تھا۔

گارووند کے والدین اس وقت سرکاری میڈیا کی ایک ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے نمودار ہوئے کہ بلڈ پریشر کا مسئلہ، گرنا یا شاید دونوں ان کی بیٹی کی موت کا سبب بنے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے، "محترمہ امینی کے کیس کی یاد دلانے والی کارروائیوں میں ریاستی حکام نے ان حالات کو مبہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جن کی وجہ سے محترمہ گارووند کی موت واقع ہوئی۔"

اس نے ایرانی اسکول کی طالبات کو نشانہ بنانے کے لیے زہر خورانی کے مشتبہ سلسلے کو بھی نوٹ کیا بغیر کسی نتیجے پر پہنچے کہ ان واقعات میں کیا ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں