یمن اور حوثی

ایران سے حوثیوں کو سامان کی ترسیل میں ملوث کمپنیوں پر امریکی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ نے دو بحری جہازوں کے مالکان اور دو آئل ٹینکرز کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جن پر ایران میں حوثی مالیاتی نیٹ ورک کے لیے سامان کی ترسیل میں تعاون کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ اس کھیپ کا مقصد حوثیوں کو بحیرہ احمراورخلیج عدن میں بین الاقوامی سمندری تجارت پر حملے جاری رکھنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے بدھ کے روز ایک پریس بیان میں کہا کہ اس کے فارن اثاثہ جات کنٹرول آفس نے ہانگ کانگ اور مارشل آئی لینڈ کے دو جہاز مالکان اور دو بحری جہازوں کے خلاف حوثی مالیاتی سعید الجمل نیٹ ورک کے لیے سامان کی ترسیل میں کردار ادا کرنے پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعید الجمل نیٹ ورک کے ذریعے حاصل ہونے والی مالی آمدنی حوثیوں کی مسلح کوششوں کو فعال بنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ سعید الجمل ایران میں مقیم ایک حوثی کمانڈر ہے جسے 10 جون 2021ء کو بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔

امریکی وزارت خزانہ کے انڈر سیکرٹری برائے انسداد دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس بریان نیلسن نے کہا کہ "ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس اور حوثی تجارتی جہاز رانی کے راستوں پر اپنے حملوں کے لیے مالی امداد کے لیے سامان کی غیر قانونی فروخت پر انحصار کرتے رہتے ہیں"۔

نیلسن نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ فنڈنگ کے ذرائع کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا جو اس طرح کی غیر مستحکم سرگرمیوں کو فعال کرتے ہیں۔

بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ پابندیوں کی فہرست میں شامل ہانگ کانگ میں واقع ہانگ کانگ یونی ٹاپ گروپ لمیٹڈ اور مارشل آئی لینڈ میں واقع رینیز شپنگ کمپنی لمیٹڈ کے دو خام آئل ٹینکروں کے علاوہ "ایٹرنل فارچون" اور "رینینز" جو ایک فنانسر نیٹ ورک کے لیے سامان کی ترسیل سے منسلک ہیں حوثیوں کو مالی اور عسکری امداد فراہم کرت ہیں۔

پابندیوں کے تحت امریکہ میں یا امریکی افراد کے قبضے یا کنٹرول میں واقع مندرجہ بالا اداروں کی تمام جائیداد اور مفادات کو بلاک کر دیا جائے گا۔

پابندی میں وہ تمام ادارے اور دیگر افراد بھی شامل ہیں جو پابندیوں کے تابع اداروں اور افراد کے ساتھ کچھ لین دین یا سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں