جنوبی افریقہ عالمی عدالت انصاف کا استحصالی استعمال کر رہا ہے: اسرائیل کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے جمعرات کے روز جنوبی افریقہ پر الزام عاید کیا ہے کہ جنوبی افریقہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزام میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں لے جا کر اس عدالتی فورم کا استحصالی استعمال کر رہا ہے، نیز حماس کی مدد کر رہا ہے۔ یہ الزام اسرائیل کی وزارت خارجہ نے جمعرات کے روز باقاعدہ جاری کیے گئے بیان میں لگایا ہے۔

واضح رہے جنوبی افریقہ نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں غزہ کے ہزاروں شہریوں کی اسرائیل کے ہاتھوں بہیمانہ انداز میں ہلاکت کا معاملہ پیش کیا تھا ، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کا سامان کرنا پڑا تھا کہ اپنی فوج کو نسل کشی سے روکنے کے لیے کام کرے۔

بین القوامی عدالت انصاف نے اسرائیل سے اس سلسلے میں عمل درآمد کی رپورٹ بھی طلب کی تھی۔

اسرائیل اس صورتحال میں عالمی برادری کا بڑھا ہوا دباؤ محسوس کر رہا ہے۔ اگرچہ وہ بین الاقوامی عدالت انصاف اور عالمی رائے عامہ کو وقعت دینے کو تیار نہیں ہے۔ اس لیے اس نے اپنے تازہ بیان میں جنوبی افریقہ پر یہ الزام لگا دیا ہے کہ جنوبی افریقہ مسلسل حماس کے خلاف اسرائیل کے حق دفاع کو نظر انداز کر رہا ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ بار بار حماس کی مدد کے لیے یہ بیانیہ اختیار کر رہا ہے۔ اگرچہ ہیگ میں موجود عدالت انصاف نے اسرائیل کے حق دفاع کو تسلیم کیا ہے۔

اسرائیل کے اس الزام کے بعد بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے جنوبی افریقہ کے حکام سے تبصرے کے لیے درخواست کی لیکن انہوں نے اس پر کوئی تبصرے نہیں کیا ہے۔

واضح رہے جنوبی افریقہ کے علاوہ جنوبی امریکہ کے کئی ممالک بھی اسرائیل کے بارے میں یہی رائے رکھتے ہیں۔ برازیل کے صدر نے ایک حالیہ بیان میں غزہ کے فلسطینیوں کے قتل عام کو اسرائیل کے ہاتھوں ہولوکاسٹ قرار دیا تھا۔ کئی ملک اسرائیل کے ساتھ آنے معاملات کو محدود بھی کر چکے ہیں۔ تاہم امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی طرف سے اسرائیل کی حمایت جاری ہے۔

ادھر غزہ میں جنگ بندی کے امکانات مدھم پڑ گئے ہیں اور غزہ میں اسرائیلی جنگ چھٹے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگرچہ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں