سعودی عرب: یکم رمضان سے سرکاری سروسز معطلی کے ضابطے پر عمل شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں وزارت داخلہ نے یکم رمضان المبارک 1445 ہجری سے سرکاری سروسز کی معطلی کے ضابطے پر عمل درآمد شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ سروسز معلطی کو ریگولیٹ کرنے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جس شخص کی سروسز معطل کی گئی ہیں اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اسی طرح سروسز معطلی کے نتیجے میں اس کے زیر کفالت افراد یا دیگر کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ سروسز معطلی صرف قانونی دستاویز پر ہوسکے گی۔ اسی طرح سروسز معطلی سے علاج، تعلیم، کام، کمرشل رجسٹری، شہری حقائق اور شناختی کاغذات کی دستاویز متاثر نہیں ہوں گی۔

افراد اور کاروباری شعبے کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ سروسز کی معطلی سے قبل اپنی سروسز کی مدت میں توسیع کی درخواست جمع کرا لیں۔ اس حوالے سے سروسز معطل کرنے میں تاخیر کی درخواستوں پر کارروائی ہو رہی ہے۔ ان درخواستوں کی تعداد ایک لاکھ 57 ہزار 243 ہوگئی ہے۔

خدمات کی معطلی کو ریگولیٹ کرنے سے جن کی خدمات معطل کی گئی تھیں انہیں تین مراحل میں خدمات معطل کرنے کی اجازت دی گئی۔ ہر مرحلے میں ایک مخصوص مدت دی گئی ہے۔ پہلے اور دوسرے مرحلے میں پندرہ دن ہیں جس میں مزید پندرہ دن کی توسیع ہوسکے گی۔ تیسرے مرحلے میں مدت کا تعین قانونی دستاویز کے مطابق کیا جائے گا۔

واضح رہے سرکاری سروسز معطلی کے ضابطے کا نفاذ ریگولیشن سے منسلک سرکاری ایجنسیوں کے پلیٹ فارمز کے لیے مخصوص کنٹرولز اور ماڈلز کے مطابق ’’ابشر‘‘ پلیٹ فارم اور پورٹل "مقیم" کے ذریعے عمل میں آئے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں