فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ بندرگاہ کی تعمیر کا امریکی منصوبہ، مزید امداد 'یقیناً اچھی' ہے: اقوامِ متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جمعرات کو امریکہ کی جانب سے سمندری بندرگاہ بنانے کے منصوبے کے اعلان کے بعد اقوامِ متحدہ نے کہا، اگرچہ بین الاقوامی توجہ زمین کے ذریعے غزہ میں انسانی امداد کی بڑے پیمانے پر تقسیم اور داخلے پر ہونی چاہیے لیکن مزید امداد پہنچانے کا کوئی بھی طریقہ "ظاہر ہے کہ اچھا ہے۔"

جب انسانی امداد حاصل کرنے کے لیے غزہ کے بحیرۂ روم کے ساحل پر ایک عارضی بندرگاہ کے منصوبے کے بارے میں پوچھا گیا تو اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا، "غزہ میں مزید امداد حاصل کرنے کا کوئی بھی طریقہ خواہ سمندری ہو یا ہوائی جہاز سے، ظاہر ہے اچھا ہے۔"

البتہ دوجارک نے کہا، زمین کے ذریعے امداد کی فراہمی قیمت اور حجم کے لحاظ سے زیادہ مؤثر ہے اور "ہمیں داخلے کے مزید مقامات کی ضرورت ہے اور ہمیں امداد کی ایک بڑی مقدار کی زمینی راستے سے لانے کی ضرورت ہے۔"

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں کم از کم 576,000 افراد – آبادی کا ایک چوتھائی – قحط کے دہانے پر ہیں۔

کچھ امداد مصر سے رفح گذرگاہ اور اسرائیل سے کریم شالوم کے ذریعے حماس کے زیرِ انتظام غزہ میں داخل ہو سکتی ہے۔ تنازع سے پہلے غزہ 500 ٹرکوں پر روزانہ آنے والے سامان پر انحصار کرتا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے اونروا نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ فروری کے دوران اوسطاً تقریباً 97 ٹرک روزانہ غزہ میں داخل ہوئے جبکہ جنوری میں یہ تعداد تقریباً 150 تھی۔ اونروا نے کہا ہے کہ بعض اوقات اسرائیلی مظاہرین کریم شالوم کے ذریعے ترسیل کو روک دیتے تھے۔

امریکہ، اردن اور فرانس نے بھی فضائی راستے سے امدادی سامان گرایا ہے اور اسرائیل نے نجی ٹھیکیداروں کے ذریعے امداد کی ترسیل کی نگرانی کی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا کہ شمالی غزہ کے لیے ایک نئے زمینی راستے کا جمعرات کو جائزہ لیا جائے گا۔ عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے 20 فروری کو شمالی غزہ میں حفاظتی خدشات کی بنا پر اپنی ترسیل روک دی کیونکہ اس کے قافلوں کو بھوکے لوگوں کے ہجوم کے حملوں کا سامنا تھا۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ غزہ میں امداد کی تقسیم ایک اہم چیلنج رہا ہے کیونکہ لاقانونیت میں اضافہ ہوا ہے اور جرائم پیشہ گروہ امداد پر قبضہ کر کے اسے دوبارہ فروخت کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل نے فروری میں غزہ کے ان علاقوں میں 224 طے شدہ امدادی مشنوں میں سے نصف کو سہولت فراہم کی تھی جن میں رابطہ کاری کی ضرورت تھی۔

او سی ایچ اے نے کہا، "اسرائیلی بحری حملے میں 5 فروری کو شمالی غزہ کی طرف جانے والے اقوامِ متحدہ کی رابطہ کاری میں خوراک کے قافلے کو نشانہ بنایا جس کے وہاں کارروائی موقوف تھی اور اس کے نتیجے میں محصور شمالی غزہ میں گذشتہ ماہ صرف 24 مشنوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔"

اوچا نے کہا، "ان میں سے صرف چھ کو سہولت فراہم کی گئی،" اور مزید کہا کہ جنوبی غزہ کے علاقوں میں 200 طے شدہ مشنوں میں سے 105 کو اسرائیل نے سہولت فراہم کی تھی۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور شہریوں کے لیے امداد کی کوئی حد نہیں ہے۔

اس نے کسی بھی ترسیل کے مسائل کے لیے اقوامِ متحدہ کو موردِ الزام قرار دہتے ہوئے کہا ہے کہ امداد کی مقدار اور رفتار پر پابندیاں اقوامِ متحدہ اور دیگر ایجنسیوں کی صلاحیت پر منحصر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں