غزہ میں جنگ بندی شرائط باہمی طور پر مسترد، اگلے ہفتے پھر مذاکرات شروع

اسرائیل نے حماس کی شرائط کو ناممکن قرار دیدیں، ثالث یکم رمضان کو جامع جنگ بندی کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کا وفد جمعرات کو قاہرہ سے روانہ ہوگیا، قاھرہ میں اتوار سے مصری، قطری، امریکی ثالثی کے تحت غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے مشاورت کی جا رہی ہے۔ مصری چینل کے مطابق اگلے ہفتے مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔

قاہرہ نیوز چینل نے ایک اعلیٰ سطح کے ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ حماس کا وفد جنگ بندی پر مشاورت کے لیے قاہرہ سے روانہ ہو رہا ہے۔ مذاکرات اگلے ہفتے دوبارہ شروع ہوں گے۔ ماہ مقدس سے قبل جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے تمام فریقوں میں مشاورت جاری ہے۔

العربیہ اور الحدیث کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے 6 ہفتے کی جنگ بندی کے دوران تمام قیدیوں کی بغیر کسی شرط اور پابندی کے رہائی کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی جامع جنگ بندی سے قبل فوجی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ذرائع نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ کے رہائشیوں خاص طور پر 45 سال سے کم عمر کے افراد کی شمال میں واپسی پر تحفظات ہیں۔ اس نے 3 مراحل میں صرف خواتین اور بچوں کی واپسی کی درخواست کی۔ ذرائع نے وضاحت کی کہ حماس نے اسرائیلی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے ثالثوں کے ساتھ طے شدہ تقسیم کی لکیر پر اسرائیلی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور ان کی تعداد کے حوالے سے ابھی تک اختلافات جاری ہیں۔ اسرائیل نے 10 سے 12 قیدیوں کی اس فہرست کو مسترد کر دیا ہے جس کا حماس نے مطالبہ کیا تھا۔ العربیہ ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے دوران ڈرون کے ذریعے غزہ میں سروے اور کومبنگ آپریشن کرنے کی درخواست کی تھی لیکن حماس نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ثالث رمضان کے پہلے دن غزہ میں ایک جامع جنگ بندی کے خواہاں ہیں۔

دوسری طرف اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے معاہدے کے لیے حماس کی شرائط پر عمل "ناممکن" ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں