غزہ کے نزدیک امریکی بحری اڈے کے قیام کا فیصلہ، مقصد امدادی کارروائی بتایا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ نے غزہ سے متصل سمندر میں بحری اڈہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے اس کی وجہ اور جواز غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل بتایا ہے۔ امریکہ بحر متوسط میں 7 اکتوبر کے فوری بعد سے مسلسل سرگرمی اور کیل کانٹے سے لیس انداز میں موجود ہے۔ جہاں اس نے اسرائیل حماس جنگ شروع ہوتے ہی اپنا بحری بیڑہ بھیج دیا تھا۔

امریکی حکام جمعرات کی صبح یہ توقع کر رہے تھے کہ امریکی صدر سٹیٹ آف دی یونین سپیچ کے اہم موقع پر اس کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک بڑا اہم موقع ہوگا اور اس فیصلے کے لیے بھی اس کی اہمیت ہوگی۔

اس موقع پر امریکی حکام نے حماس پر الزام بھی لگایا ہے کہ حماس جنگ بندی میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے اور جنگ بندی کو مؤخر کرنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ کیونکہ حماس بیمار اور لاغر یرغمالیوں کو رہائی دینے پر آمادہ نہیں ہوا۔ اس لیے جنگ بندی مذاکرات کو کامیاب نہیں ہونے دے رہا۔

واضح رہے پچھلے دنوں قاہرہ میں مصری اور قطری حکام کی موجودگی میں جاری رہنے والے مذاکرات میں شرکت سے اسرائیل نے مسلسل انکار کیا اور وہ مذاکرات کی حالیہ قاہرہ بیٹھک کا حصہ نہیں بنا۔ اگرچہ امریکی صدر جوبائیڈن اس سے قبل بڑی امید ظاہر کر چکے تھے کہ رمضان سے پہلے جنگ بندی کا اعلان ہو جائے گا۔ انہوں نے اس سلسلے میں 4 مارچ کی تاریخ کا ذکر بھی کیا تھا۔

دوسری جانب حماس جو مذاکرات کے آخری دور کا بھی حصہ رہی ہے کے ایک عہدیدار نے باضابطہ بیان میں کہا تھا کہ حماس جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات کا حصہ بنے گی۔ اس کے بارے میں غلط تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے حق میں نہیں ہے۔ حماس عہدیدار نے کہا حقیقت اس کے برعکس ہے کہ اسرائیل قاہرہ میں مذاکرات کا حصہ نہیں بن رہا ہے۔ حماس کی طرف سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ امریکہ فضا سے خوراک گرانے کے بجائے اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی روک دے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔

امریکی حکام نے بتایا کہ صدر جوبائیڈن کانگریس میں ہونے والی اپنی تقریر کے موقع پر بتائیں گے کہ امریکی فوجی حکام غزہ سے متصل سمندر میں ایمرجنسی بنیادوں پر امریکی بحریہ کے لیے بندرگاہ قائم کریں گے۔ اس سلسلے میں ہم خیال ممالک کو بھی ساتھ ملایا جائے گا۔ خیال رہے بحر متوسط اور بحیرہ احمر میں امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ہی اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب امریکہ کی طرف س کہا گیا ہے کہ اپنے ان نئے آپریشنز میں انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اداروں کو بھی ساتھ ملائے گا۔

تاہم کہا گیا ہے کہ یہ بندوبست عارضی ہوگا۔ جو جنگ میں گھری ہوئی غزہ کی پٹی کے لیے فعال رہے گا اور بیک وقت سینکڑوں ٹرکوں کی آمد و رفت اس کے ذریعے ممکن ہو سکے گی۔

امریکہ کی طرف سے فضائی راستے سے غزہ میں خوراک گرانے کے پہلے موقع پر ہی کہہ دیا گیا تھا کہ وہ سمندری راستے سے بھی غزہ تک رسائی کی اسی طرح کی کوششیں کرے گا۔ شروع میں اس نے اپنی سمندر میں موجودگی کو اسرائیلی تحفظ و حمایت کے لیے اس لیے یقینی بنایا تھا کہ اسرائیل میں غزہ کی جنگ غزہ سے باہر نہ پھیل سکے اور اس میں دوسرے فریق حصہ نہ بن سکیں۔ اس سلسے میں قبرص کے ساتھ بھی پچھلے کئی دنوں سے بات چیت جاری تھی اور اب امید کی جارہی ہے کہ اب قبرص بھی ان معاملات میں شریک رہے گا اور امریکہ کی معاونت کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں