فلسطین اسرائیل تنازع

فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں ’جنگی جرم‘ ہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں تقریباً 3500 نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کے اعلان بعد اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے جمعے کے روز کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں میں غیرمعمولی طور پر توسیع ہوئی ہے۔ اس سے فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں سنگین نوعیت کی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں اور یہ بستیاں امن عمل کے لیے خطرناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی بستیوں کی توسیع اسرائیل کی طرف سے آبادی کی نقل مکانی کی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نےفلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع "جنگی جرم" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں گذستہ سال خاص طور پر اکتوبر 2023 کے بعد 24,300 یونٹس کا اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ "آباد کاروں کا تشدد اور آبادکاری سے متعلق خلاف ورزیاں چونکا دینے والی نئی سطحوں تک پہنچ گئی ہیں۔ اس سے ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے کسی بھی عملی امکان کو ختم کرنے کا خطرہ ہے۔"

فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اقوام متحدہ کی آزاد خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیس نے جمعہ کے روز اسرائیل پر کئی دہائیوں سے غیر قانونی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے پر تنقید کی ہے۔

البانیس نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر لکھا کہ "اسرائیل 56 سالوں سے غیر قانونی بستیاں بنا رہا ہے، جن میں سے 300 اب صرف مغربی کنارے/مشرقی یروشلم میں ہیں اوران میں آباد کاری میں اضافے کے لیے دھڑا دھڑ اقدامات ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "صرف مذمت کے الفاظ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی اور استثنیٰ کی دہائیوں کو نہیں مٹا سکتے"۔

"غیر قانونی"

چند روز قبل مغربی کنارے میں اسرائیل کی سول انتظامیہ کی سپریم پلاننگ کونسل نے یروشلم کے ارد گرد متعدد بستیوں کو وسعت دینے کے لیے تقریباً 3,500 نئے سیٹلمنٹ یونٹس کی تعمیر کی منظوری دی تھی، جس کی عرب اور بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔

کل اقوام متحدہ کے رابطہ کار برائے مشرق وسطیٰ امن عمل، ٹور وینس لینڈ نے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کی اور ایک بیان میں کہا کہ "میں اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ تمام اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں اور میں اسرائیلی حکام پر زور دیتا ہوں کہ وہ آبادکاری کی تمام سرگرمیاں بند کر دیں اور اشتعال انگیز کارروائیوں سے باز رہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں