فلسطین اسرائیل تنازع

ملبے کے ڈھیرخان یونس میں کچھ بے گھرلوگوں کی واپسی،تباہی دیکھ کر لوگ صدمے سے دوچار

ہمارا کچھ نہیں بچا، ہم امن چاہتے ہیں، صدمے اور اداسی کے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ہزاروں فلسطینی جمعرات کو خان یونس کے شہر کے مرکز میں واپس آئے مگر وہاں عمارتوں کے ملبے کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں۔

جنوبی غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے شہر کی گلیوں میں مرد اور عورتیں گاڑیوں کی چھتوں، گدھا گاڑیوں پر یا اپنے سروں پر گیس سیلنڈر، کپڑے اور فرنیچر کے ٹکڑے اٹھائے گھروں کو واپس آئے مگر ان کے گھر ملبے کا ڈھیر ہیں۔

کچھ لوگ سرجیکل ماسک پہنے دکھائی دیے۔ وہ ہر طرف پھیلنے والے گردوغبار سے خود کو بچانا چاہتے تھے۔ ایک بچی اپنے گھر کے ملبے سے اپنا کھلونا ہی نکال سکی۔

ہفتوں تک جاری رہنے والی لڑائیوں کے بعد اسرائیلی ٹینک اس ہفتے شہرکے مرکز خان یونس سے پیچھے ہٹ گئے، جو کہ رفح کے شمال میں چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ وہاں اب بڑے پیمانے پر تباہی اور کھنڈرات ہیں۔

اسرائیلی فوج اور حماس کے عینی شاہدین نے بتایا کہ شہر کے مغربی حصے میں جمعرات کو بھی لڑائی جاری رہی۔

"اداسی کے احساسات ہماری زندگیوں سے کبھی ختم نہیں ہوں گے‘‘

خان یونس کے 49 سالہ جمیل آغا نے اپنے گھر کے باقی حصے میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ "ہم کیا کر سکتے ہیں؟ رونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہماری زندگیوں میں اداسی اور صدمے کے جذبات غالب ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ہمارے گھروں کو تباہ کردیا ہے"۔

پچپن سالہ وجیہہ ابو ظریفہ جس کا گھر ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا نے کہا کہ "اسرائیلی جنگی طیاروں نے ہزاروں گھروں کو تباہ کر دیا اور انہیں ملبے میں تبدیل کر دیا، لیکن وہ ہماری یادوں سے ہمارے گھروں کو محو نہیں کرسکے‘‘۔

رفح کیمپ میں بے گھر بچے (رائٹرز)

ایک میونسپل اہلکار کے مطابق اسرائیلی فوج نے "خان یونس میں ہزاروں مکانات کو تباہ کر دیا۔ کوئی مکان رہائش کے قابل نہیں‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "فوج نے بازاروں، سٹوروں، میڈیکل اسٹوروں، طبی مراکز اور درجنوں ریستورانوں کو تباہ کر دیا۔اس نے ہسپتال، تمام سڑکیں، پانی، بجلی، مواصلات اور انٹرنیٹ نیٹ ورک کو تباہ کر دیا۔ اس نے تمام سڑکیں کھود ڈالیں۔

غزہ میں حماس کی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعرات کی سہ پہر خان یونس کے مرکز سے چھ لاشیں ملی ہیں اور "درجنوں لاپتہ افراد اب بھی ملبے کے نیچے ہیں"۔

غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبرسے جنگ وقت سے جنگ جاری ہے جن حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کرکے کم از کم 1,160 افراد کو ہلاک اور دو سو کے قریب لوگوں کویرغمال بنایا گیا تھا۔

حماس کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کے دوران اب تک 30,800 مارے جا چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں