ایران میں دو خواتین سربازار ناچ گانے کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی پولیس نے دو نوجوان ڈانسرز کو ملکی قانون کے خلاف بر سر عام ناچنے اور گانے کے باعث حراست میں لے لیا ہے۔ ان دونوں ڈانسرز کی ڈانس کرتے ہوئے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔ ویڈیو میں یہ دونوں ڈانسرز ایران کے جشن نوروز کے سلسلے میں ناچتی ہوئی دیکھی جا سکتی تھیں۔ رپورٹ کیا گیا ہے کہ دونوں ڈانسرز کی گرفتاری ہفتے کے روز کی گئی ہے۔

دونوں ڈانسرز کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔ جس کا پولیس نے نوٹس لیا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ایرانی قانون کے مطابق خواتین کو اس طرح کی حرکتیں سر عام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ اپنے گھروں کے اندر انہیں روک ٹوک نہیں ہے۔ ایرانی اخلاقی پولیس مذہبی قوانین پر عمل در آمد کرانے کی ذمہ دار ہے۔

بتایا گیا کہ ان گرفتار کی گئی ڈانسروں کا تعلق ایرانی دارالحکومت کے شمالی علاقے سے ہے۔ اس کی نشاندہی مقامی لوگوں نے بھی کر دی تھی۔ یہ ناچ گانے کا واقعہ اسی علاقے میں ہوا تھا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران کے علاقے تجریش میں پیش آئے واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے پر تہران کے پراسیکیوٹر نے گرفتاری کا حکم دیا تھا کہ سماجی اقدار کی خلاف ورزی اور قانون شکنی پر انہیں گرفتار کیا جائے۔ ان خواتین ڈانسروں کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ 20 مارچ کو اس سلسلے میں ایک فنکشن میں ناچ کر دکھائیں گی۔

خیال رہے ایرانی کیلنڈر کا آغاز بیس مارچ سے ہورہا ہے۔ تاہم اس قومی تہوار کےموقع پر بھی مخلوط تقریبات اور ڈانس کی قانون اجازت نہیں دیتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران میں لبرل ایجنڈے کے حامل لوگوں کی طرف سے ان دنوں کئی قسم کی ویڈیوز جاری کی گئی ہیں۔ جن میں یہ لبرل افراد اپنی رشتہ دار خواتین کی ڈانس اور گانے کی فلمیں بنا کر وائرل کر دیتے ہیں تاکہ ایرانی قوانین کا مذاق اڑا سکیں۔

مہسا امینی کی سولہ ستمبر 2022 میں ایرانی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد سے لبرل قوتیں کافی متحرک ہیں۔ انہیں کے فالوورز ملک کے اندر اور باہر ہر جگہ موجود ہیں۔ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ایک لمبی تحریک چلی تھی۔ جس میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت ہو گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں