حماس کو دہشت گرد قرار نہیں دیں گے، حمایت ہر صورت جاری رکھیں گے: طیب اردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ کے صدر طیب اردوآن نے دو ٹوک اور کھلے انداز میں کہا ہے کہ ان کا ملک فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس اور اس کے رہنماؤں کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ کوئی بھی ہمیں مجبور نہیں کر سکتا کہ ہم حماس کو دہشت گرد قرار دیں۔

انہوں نے اس امر کا اظہار استنبول میں کی گئی اپنی ایک تقریر کے دوران کیا ہے۔

طیب اردوآن نے کہا ترکیہ ایک ایسا ملک ہے جو حماس اور اس کے لیڈروں کے ساتھ کھلے طور پر بات کرتا ہے اور ان کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ خیال رہے ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن اسرائیل کے سخت نقاد ہیں۔ خصوصاً جب سے اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے۔

غزہ میں اسرائیل کی جاری جنگ اسرائیل کی طرف سے لڑی جانے والی تمام تر جنگوں میں سے طویل تر ہے۔ جنگ چھٹے ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور اس دوران تقریباً 31 ہزار فلسطینی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 23 لاکھ فلسطینی بےگھر ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے اور بےگھر ہونے والے ان فلسطینیوں میں کم از کم نصف تعداد خواتین کی ہے۔

اس جنگ کے شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کو اردوآن نے ایک دہشت گرد ریاست قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں