العربیہ ایکسکلوسیو

حوثیوں کے حملے سے ڈوبنے والے جہاز کے اندر تباہی کے مناظر سامنے آگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے ایران نواز حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے بحیرہ احمر میں باب المندب کے قریب روبیمار جہاز ڈوبنے کی تفصیلات ابھی تک سامنے آ رہی ہیں۔ جہاز کے اندر سے ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں میزائل حملے کے نتیجے میں جہاز کے اندر ہونے والی تباہی کو دیکھا جا سکتا ہے۔

'العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو حاصل ہونے والی ویڈیو میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس جہاز پر ماحولیاتی طور پر خطرناک کھاد کی بھاری مقدار موجود تھی۔اسے 18 فروری کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں انجن روم میں پانی بہہ گیا اور جہاز کے باقی کمروں میں بم دھماکے کے نشانات نظر آئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو موصولہ معلومات کے مطابق یہ جہاز مکمل طور پر ایک شامی خاندان’ابوشحاتہ اینڈ سنز‘ کی ملکیت ہے اور اس کا انتظام خاندان کے ایک رکن وائل ابو شحاتہ کے پاس ہے۔ اس کی لمبائی 171.6 میٹراور چوڑائی تقریباً 28 میٹرہے، اس میں تقریباً 32 ہزار ٹن سامان سامان کی گنجائش ہے۔ س میں 5 ہولڈز ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو معلومات ملی ہیں اس کے مطابق حادثے کے دن جہاز پر تقریباً 22 ٹن فاسفیٹ لادی گئی تھی۔ اس پرایک ہی وقت میں دومیزائلوں سے بمباری کی گئی۔ پہلا میزائل پانی کی سطح کے بہت قریب جہاز پر لگا اورجہاز سے ٹکرایا۔

یہ میزائل انجن روم اور ہولڈ نمبر 5 کے درمیان لگا ایک سوراخ کی وجہ سے جہاز کے اس حصے میں پانی میں داخل ہوگیا۔ دوسرا میزائل جہاز کے سٹرن کی طرف تھا۔

حوثی میزائلوں کا نشانہ بننے کے فوراً بعد جہاز روبیمارکے اندر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ نے خصوصی مناظرحاصل کیں۔

معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے کرم سے جہاز کے عملے کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا۔ پہلے میزائل کا براہ راست نشانہ ایندھن کے ٹینک کے قریب تھا، اگر یہ ٹینک سے ٹکرا جاتا تو جہاز مکمل طور پر جل کرراکھ ہوجاتا اور اس میں سوار تمام افراد ہلاک ہوجاتے۔

حوثی حملے کا شکار بننے والے جہاز روبیمار کے خصوصی مناظر۔ [العربیہ ایکسکلوسیو]
حوثی حملے کا شکار بننے والے جہاز روبیمار کے خصوصی مناظر۔ [العربیہ ایکسکلوسیو]

ویڈیو کے مطابق جہاز کے ہولڈز اور انجن روم میں پانی بھر گیا اور وہ ڈوب گیا۔

حوثیوں نے جہاز پر بمباری اور اس کے ڈوبنے کی ذمہ داری قبول کی تھی جب کہ عملے کے 24 افراد شامل جن میں 11 شامی، 6 مصری، 3 ہندوستانی، اور 4 فلپائنی شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں