غزہ میں امریکی خوراک کے لیے 'ائیر ڈراپنگ' فلسطینیوں کے لیے جان لیوا بمباری بن گئی

جہاز سے گرائی جانے والے خوراک لینے کے خواہش مند پانچ فلسطینی جان بحق جبکہ 10 زخمی ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں سب سے بڑے الشفا ہسپتال کے طبی عملے نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ کی طرف سے خوراک کی 'ائیر ڈراپنگ' کے دوران پانچ فلسطینی ہلاک اور 10 فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔

الشفا ہسپتال کی ایمرجنسی میں ہیڈ نرس محمد الشیخ نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی' کو بتایا ہوائی جہاز سے گرائی جانے والی خوراک حاصل کرنے کوشش میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کو بعد ازاں الشفا ہسپتال میں لایا گیا۔

ہسپتال کے طبی عملے کے مطابق ہوائی جہاز سے گرائی گئی خوراک شاطی پناہ گزین کیمپ کے نزدیک گرائی گئی۔ پناہ گزین کیمپ سے متعلق عینی شاہد نے کہا 'میں اور میرا بھائی آٹے کے ایک تھیلے کے پیچھے بھاگے تھے جو جہاز سے گرایا گیا تھا مگر اچانک کیا دیکھا کہ امدادی سامان والا پیرا شوٹ نہ کھل سکا اور یہ پیرا شوٹ ایک راکٹ کی طرح ایک مکان کی چھت سے جا کر زور سے لگا۔

محمد الغول کے مطابق دس منٹ بعد میں نے دیکھا کہ تین افراد شہید ہو گئے اور دوسرے کئی زخمی ہو گئے۔ یہ سب اس چھت پر اس لیے جمع تھے کہ شاید چھت پر گرنے والی خوراک ان کے ہاتھ لگ سکے گی۔

واضح رہے امریکہ اور اردن ان ملکوں میں شامل ہیں جنہوں نے شمالی غزہ میں خوارک کے تھیلے ہوائی جہازوں کے ذریعے گرائے ہیں۔ پانچ ماہ سے زائد عرصے سے اسرائیلی بمباری اور زیر محاصرہ غزہ میں لاکھوں فلسطینی اس وقت قحط کی زد میں ہیں۔

الشفا ہسپتال کے طبی عملے کے مطابق جمعہ کے روز ہوائی جہاز سے گرنے والی امداد کے حصول کے لیے جمع فلسطینیوں میں سے پانچ ہلاک ہو گئے اور 10 زخمی ہو گئے۔ غزہ میں حماس کی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہہے کہ ہوائی جہاز سے امداد اور خوراک گرانا مفید ہے نہ ہی غزہ میں امداد پہنچانے کا یہ بہتر طریقہ ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ نے بھی کہا ہے ہوائی جہازوں کے ذریعے غزہ میں خوراک گرانے اور مجوزہ بحری راستے سے غزہ میں خوراک پہنچانے کی کوشش زمینی راستوں سے امداد منتقل کرنے کے متبادل ذرائع نہیں ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں