امدادی کارکنوں کےلیے اسرائیل کی 'نو ویزا پالیسی' 50 اعلیٰ عہدیداران کو ویزے نہ مل سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سرحد پر سخت چیکنگ اور اندھا دھند اسرائیلی بمباری کے ساتھ ساتھ ویزوں کے اجرا کی اسرائیلی پالیسی نے بین الاقوامی امدادی اداروں کی مشکلات میں غیر معمولی اضافے کا ماحول بنادیا ہے۔ پہلے سے جاری کردہ ویزوں کے تجدید اور توسیع میں بھی اسرائیل نے امدادی کارکنوں کو تنگ کرنے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر ترقیاتی اور امدادی تنظیموں کے مشترکہ فورم ' ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایجنسیز کے ڈائریکٹر فارس اروری نے بتایا ہے کہ ' پچھلے چار دنوں سے کم از کم 57 امدادی کارکنوں کے ویزے ختم ہونے کے بعد وہ ویزوں کی تجدید کا معاملہ لٹکا ہوا ہے جبکہ اگلے چند ہفتوں کے دوران مزید 42 امدادی کارکنوں کے ویزے بھی ختم ہونے کو ہیں۔ '

اروری کے مطابق مختلف امدادی تنظیموں سے وابستہ کم از کم 50 کارکنوں کی درخواستیں نئے ویزوں کے لیے التوا میں ہیں۔ اس کی وجہ مغربی کنارے میں میں انسانی حوالے سے انتہائی بگڑے ہوئے حالات ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیل کی ویزوں کے اجرا کے حوالے سے لگائی گئی پابندیوں کے باعث اقوام متحدہ کے امدادی ادارے اور کارکن بھی متاثر ہوئے ہیں۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان لیور ہیات نے اے ایف پی کو بتایا کہ "ا امدادی تنظیموں اور امدادی کارکنوں کو ویزوں کے اجراء کے حوالے سے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی ہے" اور ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ویزوں کے اجرا میں تاخیر کا مسئلہ "مستقبل قریب میں حل ہو جائے گا۔"

'گرے زون'

غزہ میں وزارت صحت کے مطابق، اسرائیل کی وحشیانہ فوجی مہم میں کم از کم 31,045 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

فلسطینیوں کے پتوں اور جانوروں کے چارے پر گزارہ کرنے کی پریشان کن خبروں نیز بچوں کی خوراک کی کمی کا شکار ہونے کی خبروں نے خوارک کی عدم فراہمی کی جانب توجہ مرکوز کر رکھی ہے جبکہ غزہ میں ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی کے حوالے سے کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔

تاہم اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ امدای کارکنوں کو ویزا اجرا کرنے سے فلسطینیوں کی مشکلات اور خوراک کی فراہمی فوریی طور پر ممکن ہوسکے گی۔ اروری کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ویزا کے اجرا میں تعطل اور تاخیر کی پالیسی کے باعث پچاس امدادی تنظیمیں ایسی ہیں جن کے کنٹری ڈائریکٹرز جیسے اعلیٰ عہدیداران کو بھی ویزا نہیں جاری کیا گیا۔ جس کی وجہ سے جو تھوڑا بہت امدادی کام وہ کر رہے تھے اس کو اسرائیل کی طرف سے مزید مشکل اور ناممکن بنایا جا رہا ہے۔

غیر سرکاری امدادی تنظیموں اور امدادی کارکنوں کے ویزا کا اجرا کا معاملہ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق اس نے اسرائیلی وزارت بہبود کو سونپ رکھا ہے جبکہ اسرائیل کی وزارت بہبود نے گزشتہ آٹھ ماہ سے اب تک امدای کارکنوں کو کوئی بھی ویزا نہیں جاری کیا۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سے ہم نے عملا امدادی کارکنوں کے لیے 'نو ویزا' پالیسی اختیار کر رکھی ہے البتہ جو امدادی کارکن پہلے سے موجود تھے ان کے ویزوں میں 8 فروری تک توسیع کردی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک کوئی نئی پالیسی نہیں بنائی اور 8 فروری کے بعد کے لیے کسی بھی ویزے کی توسیع کا اعلان نہیں کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں