فلسطین اسرائیل تنازع

امریکہ حماس کی فنڈنگ روکنے کے لیے سرگرم

لبنان میں امریکی وزارت خزانہ کے ذمہ دار کی اہم ملاقاتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

معلوم ہوا ہے کہ جب قاہرہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری تھے تو اسرائیلی نمائندوں کی عدم شرکت کے دوران امریکی بھی فارغ نہیں رہے بلکہ دیگر آپشنز پر کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق جمعرات اور جمعہ کے روز امریکی وزارت خزانہ کے اہلکار نے حماس کے لیے جاری فنڈنگ روکنے کی کوشش کی ہے۔

اس سلسلے میں امریکی وزارت خزانہ کے معاون وزیر خزانہ جیسی بیکر نے لبنان میں حماس کے لیے فنڈز کی ترسیل پر بات کی ہے ۔ معاون وزیر خارجہ مشرق وسطیٰ اور ایشیائی ممالک کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ ان کے ہاں امریکی کاغذات میں دہشت گردوں کو فنڈز کی فراہمی کو روکتے ہیں۔

ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دیے۔ وزارت خزانہ کے ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا 'بیکر نے لبنانی حکام کے ساتھ لبنان کے ذریعے حماس کےلی فنڈز کی نقل و حرکت، حزب اللہ کے لیے فنڈز ایران سے لبنان اور پھر دوسرے علاقائی علاقوں میں منتقل کیے جانے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ۔'

امریکہ کے نزدیک ان فنڈز کی ترسیل روکنے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ گروپ اپنے جنگجوؤں کو ادائیگیاں کر رہے ہیں۔ یہ امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ وزارت خزانہ کے اہلکار نے مزید کہا ' لبنان کے لیے، انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت کے عالمی معیارات کی تعمیل کرنا امریکا اور باقی دنیا سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور ملک کو طویل بحران سے نکالنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کےاہلکار نے بتایا کہ بیکر نے لبنان پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی مالیاتی خدمات کی کمپنیوں کے بڑے شعبے کے خلاف کریک ڈاؤن کرے جو چار سال کے معاشی بحران کے دوران ملک کے رسمی بینکاری نظام کے خاتمے کے دوران پروان چڑھی ہے، بشمول غیر قانونی کرنسی ایکسچینج اور بغیر لائسنس کے رقم کی منتقلی کے آپریشنز کو بھی موثر بنائے۔

لبنان کے مرکزی بینک کے ترجمان حلیم برتی نے امریکی وزارت خزانہ کے تصدیق کی کہ ادارے کے عہدیداروں نے بیکر سے ملاقات کی ہے اور ان ملاقاتوں کو مثبت قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'مرکزی بینک لائسنس یافتہ مالیاتی خدمات کے کاروبار کو ریگولیٹ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے لیکن جو لائسنس کے بغیر کام کر رہے ہیں وہ مرکزی بنک کے دائرہ اختیار میں نہیں، اس لیے ان کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے نمٹا جانا چاہیے۔' مگرحماس کے لبنان کے لیے ترجمان ولید کلیانی نے اس بارے میں مکمل لا علمی ظاہر کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں