فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ جنگ نے انسانیت کا مشترکہ احساس کچل دیا، فوری جنگ بندی کی جائے: مرجانا سپولجارک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صلیب احمر کی بین الاقوامی کمیٹی کی سربراہ مرجانا سپولجارک نے ایک بار پھر غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے اس جنگ نے انسانیت کے مشترکہ احساس کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ ان کی طرف سے جنگ بندی مطالبے کا یہ اعادہ ہفتے کے روز سامنے آیا ہے۔

سپولجارک نے کہا ' اسرائیلی محاصرے میں موجود لاکھوں فلسطینی اشد ضروریات کے لیے امداد کے منتظر ہیں۔ ایسی امداد جس کے نتیجے میں ان کی ضروریات پوری ہونے میں ایک خاطر خواہ بہاؤ شروع ہو سکے کیونکہ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق غزہ کی اس وقت 90 فیصد آبادی قحط کی زد میں ہے۔'

صلیب احمر کی سربراہ نے کہا' اسرائیل اور حماس کو بین الاقواقمی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ تاکہ تنازعات میں پھنسے ہوئے فلسطینی شہریوں کو تحفظ مل سکے۔

مرجانا سپولجارک نے غزہ میں جاری انسانی تباہی کے خاتمے کے لیے ایک واضح ارادے سے اقدامات سے شروع کرنے پر زور دیا تاکہ شہریوں کی زندگی اور انسانی وقار کی حفاظت ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا غزہ میں زیر محاصر اور بے گھر ہو چکے فلسطینیوں کے لیے اب رہنے کی کوئی جگہ باقی نہیں رہی ہے۔ جبکہ عام شہریوں کی ہلاکتیں اور یرغمالیوں کا مسلسل قید میں رہنا ان کے لیے حیران کن اور ناقابل قبول ہے۔'

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنگ بندی کا فوری بندوبست کیا جائے تاکہ مصائب میں گھرے غزہ کے لوگوں کے لیے امداد کا بہاؤ ممکن ہو سکے۔' بین الاقوامی ادارے کی سربراہ نے حماس پر بھی زور دیا کہ وہ ان یرغمالیوں کو رہا کرے جو اس کے پاس ہیں، ان کی حفاظت اور طبی ضروریات کا خیال رکھے نیز 'آئی سی آر سی' کو یرغمالیوں سے ملاقات کی اجازت دے۔

انہوں نے مزید کہا اسرائیل ' آئی سی آر سی 'کو اسرائیل کے زیر حراست کسی بھی فلسطینی کے بارے میں اطلاع دے اور ان سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ مزید یہ کہ اسرائیل کا فرض ہے کہ وہ ان کے ساتھ انسانی سلوک کرے اور انہیں ان کے خاندانوں سے بھی سے بات چیت کرنے کی اجازت دے۔

بین الاقوامی سطح پر موجود سیاسی قائدین سے مرجانا سپولجارک نے اپیل کی ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا مکمل احترام کریں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں