فلسطین اسرائیل تنازع

قاہرہ مذاکرات میں اسرائیلی عدم شرکت کے بعدامریکہ و اسرائیل خفیہ سربراہان کی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی سی آئی اے اور اسرائیل کے خفیہ ادارے موساد کے سربراہوں نے جمعہ کے روز ایک ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور ان کے مستقبل سے جڑے امور کے بارے میں تھی۔ قاہرہ میں یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری رہنے والے مذاکرات سے یہ بیٹھک الگ سجائی گئی تھی۔

واضح رہے اسرائیلی موساد چیف اور امریکی سی آئی اے کے سربراہ کی یہ ملاقات ماضی کی ان ملاقاتوں سے بھی مختلف رہی ہے جو اس سے قبل بالعموم اسرائیل حماس جنگ روکنے کے لیے متحرک ثالثوں قطر اور مصر کے اسرائیل اور امریکہ کے حکام کی ہوتی رہی ہیں۔

ایک طرف یہ ملاقات محض دو طرفہ تھی اور دوسری طرف اس ملاقات کے فوری بعد ہوئی جس میں قاہرہ میں قطر ، مصر اور حماس کے نمائندے شریک تھے۔ مگر اسرائیل کی عدم شرکت کے باعث نتیجہ خیز نہ ہو سکی۔

اسرائیل کی قاہرہ میں جاری رہنے والے مذاکرات میں عدم شرکت پر حماس نے جمعرات کے روز مایوسی کا اظہار کیا اور اس کی طرف سے ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ کی طرف سے یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے جنگ بندی کی راہ میں رکاوٹ حماس ہے۔ جبکہ اسرائیل کی طرف سب اچھا ہے ، اس لیے مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اب حماس پر کہ گیند اب حماس کی کورٹ میں ہے۔

تاہم ہفتے کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے یہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ اسرائیلی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا اور سی آئی اے چیف ویلم بل برنز کے درمیان ملاقات ہوئی ہے اور اس میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے امور پر بات کی گئی ہے۔

دونوں جنگی اتحادیوں کے خفیہ سربراہان کی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر جوبائیڈن کی اس امید کے برعکس ہو چکا ہے کہ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان سے پہلے چار مارچ تک جنگ بندی کا معاہدہ ہو جائے گا۔ خیال رہے کہ رمضان کا آغاز اب محض ایک روز کے فاصلے پر ہے۔ اس سے پہلے اسرائیل کے نمائندے نے اچانک قاہرہ مذاکراتی بیٹھک سے خود کو دور کر لیا تھا۔

دونوں خفیہ سربراہان کی ملاقات کے بارے میں اسرائیل کا یہ بیان اتوار کی صبح شروع ہوجانے کے دوران سامنے آیا ہے ۔ اسی شام امکانی طور پر رمضان کا چاند نظر آنے کا امکان ہے۔ اسرائیلی بیان میں یہ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے خفیہ سربراہان کی ملاقات کہاں ہوئی ہے۔ البتہ یہ کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات جمعہ کے روز کی گئی۔

اس سے قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے جنگ بندی مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں اسرائیلی رویے میں تبدیلی دیکھتے ہوئے کہا تھ جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں اسرائیل اور یروشلم کے لیے یہ خطرناک ہو گا۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت کو اپنے شہریوں کی طرف سے بھی ابھی تک یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ نہ ہونے پر سخت دباؤ کا سامنا ہے۔

نیتن یاہو کی حکومت لیے یہ عوامی دباؤ سیاسی دباؤ میں تبدیل ہورہا ہے کہ جنگی کابینہ میں شامل ہونے کے باوجود بینی گانٹز کی جماعت اور دوسری جماعتیں کھل کر اختلاف کر رہی ہیں اور اگلے سیاسی منظر نامے کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے ہتھے چڑھنے والے 250 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے اب بھی حماس کی قید میں 99 یرغمالی موجود ہیں۔

یاد رہے ماہ نومبر کے آخری ہفتے میں کئی چھوٹے وقفوں پر مشتمل جنگ بندی کے دوران 140 اسرائیلی یرغمالیوں کو حماس نے رہائی دے دی تھی، مگر بعد ازاں باقی رہ گئے یرغمالیوں میں سے 31 یرغمالی اسرائیل کی اپنی بمباری سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ اب صرف 99 زندہ اور حماس کے پاس باقی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں