"بدعنوان، سفاک اور شدت پسند" نیتن یاہو کے بحران جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے بحران ختم ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ ایسے لگتا ہے کہ یہ بحران ہر گذرتے لمحے کے بعد بڑھتے اور شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

انہیں یہ بحران اور اندرون ملک اپنی عوام کے غم وغصے ملک سے باہر امریکہ جیسے دیرینہ اتحادی کی ناراضی کی صورت میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

تل ابیب میں ہفتے کے روز ہزاروں مشتعل مظاہرین نیتن یاہو کو "کرپٹ" قرار دے کران سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبرکے حملے کے صدمے پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں نے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔

مظاہرین کا نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ

مظاہرین نے نئے انتخابات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ انہوں نے غزہ میں یرغمال اسرائیلیوں کی رہائی کے مطالبات پرمبنی شرٹس پہن رکھی تھیں اور ہاتھوں میں بینرز اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر’ہماری یرغمالیوں کو گھر واپس لاؤ‘ کے نعرے درج تھے۔

ایک ماہر نفسیات خاتون نے کہا کہ "ہم ایک ٹوٹے ہوئے ملک میں ہیں"۔

ایک سابق فوجی افسر یسرائیل الفا نے کہا کہ "نیتن یاہو اور ان کی حکومت اس ملک کو تباہ کر رہی ہے"۔

بڑا خلا

حکومت کے خلاف نکالے گئے اس جلوس سے یہ واضح ہو گیا کہ عوام اور ان کی حکومت کے درمیان ایک "بڑا خلا" ہے۔

ایک پائلٹ شائی گل نے کہا کہ "7 اکتوبر کو جو کچھ ہوا اس کے بعد حکومت اقتدار میں نہیں رہ سکتی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "نیتن یاھو کے مقاصد اقتدار سے چمٹے رہنا ہے، وہ ملک کے لیے خطرہ بن چکے ہیں‘‘۔

چونسٹھ سالہ میرا سملی نے کہا کہ "لوگوں کا اس حکومت اور وزیر اعظم کے ساتھ کوئی مستقبل نہیں ہے۔ نیتن یاھو بدعنوان، سفاک اور متشدد ہے‘‘۔

بہت سے مظاہرین نے نیتن یاھو کوکرپٹ قراردے کرانہیں اقتدار چھوڑںے یہ اشارہ بھی دیا کہ نیتن یاہو جن پردھوکہ دہی اور بدعنوانی کا الزام عائد ہے۔اگر اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تو انہیں انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں