’ہم انتقال لینے آئے ہیں‘، غزہ کی دیواروں پر اسرائیلی فوج کی نفرت آمیز چاکنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی خوفناک جنگ کے پانچ ماہ میں گنجان آباد علاقے کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کے بعد بھی اسرائیلیوں کی خوئے انتقام کم نہیں ہوئی۔ ہزاروں خواتین اورمعصوم بچوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کرنے کے بعد غزہ کی پٹی میں ٹوٹی پھوٹی دیواروں پر فلسطینیوں سے نفرت آمیز نعرے عام دکھائی دیتے ہیں۔

غزہ کی ان دیواروں پرایک نعرہ عام دکھائی دیتا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ ’ہم یہاں انتقام لینے آئے ہیں‘۔غزہ کی دیواروں پراس نعرے کی چاکنگ بتاتی ہے کہ اسرائیلی فلسطینیوں سے کس حد تک نفرت کرتے ہیں۔

غزہ کی دیواروں پر موجود یہ چاکنگ اب سوشل میڈیا کے دھارے پر تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے اور اس پر ملا جلا رد عمل آرہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ چاکنگ اسرائیلی فوجیوں نے کی ہے جو غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جنگ کی آڑ میں وسیع پیمانے پر آپریشن کررہے ہیں۔

"ہم بدلہ لیں گے"

محصورغزہ کی پٹی میں رہائشی محلوں میں گھسنے والے اسرائیلی ٹینکوں کی جگہ جگہ پر کارروائیوں کے بعد وہاں تباہی کےمناظرعام دیکھے جاتے ہیں۔

غزہ کے رہائشیوں نے اسرائیلی ٹینکوں اور فوجیوں کے انخلاء کے بعد شمالی غزہ کی پٹی کے النصرمحلے میں ایک مکان کی دیواروں پر لکھے ہوئے عبرانی زبان میں نعرے دریافت کیے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں ایک انتقام ہے جو ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔ ہزاروں بے گناہوں کی جانیں لینے کے بعد بھی اسرائیلی فوج کی بدلہ لینے کا غصہ کم نہیں ہوا ہے۔

عرب عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی ٹینکوں کے جانے کے بعد رہائشیوں نے رہائشی عمارتوں پر حملے کے دوران دیواروں پر اسرائیلی فوجیوں کے لکھے ہوئے نعرے بھی دیکھے، جن میں غزہ کی پٹی کے لوگوں کے خلاف انتقام لینے کے الفاظ تھے۔

خیال رہے کہ غزہ پر سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائی میں اب تک 31000سے زاید فلسطینی لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔سات اکتوبر کی صبح حماس کی طرف سے اسرائیل پر کیےگئے حملے میں 1160 افراد ہلاک ہوگئے تھے جب کہ 250 کو جنگی قیدی بنا لیا گیا تھا۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائیوں کے دوران اب تک سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا ہے۔

اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونےوالے فلسطینیوں کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ دو ملین کے قریب لوگ بے گھر ہیں۔ غزہ میں ہزاروں مکانات اور رہائشی عمارتوں کو بمباری کرکے ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں