القاعدہ کی یمن شاخ کا رہنما خالد بالطرفی کی موت کا اعلان، جانشین نامزد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سائٹ انٹیلی جنس گروپ نے اتوار کو اطلاع دی کہ یمن میں القاعدہ کی شاخ نے اپنے رہنما خالد بالطرفی کی موت کا اعلان کیا ہے اور ایک جانشین کا نام دیا ہے۔

مانیٹرنگ سروس نے کہا کہ بالطرفی کی لاش کو جزیرہ نما عرب میں القاعدہ (اے کیو اے پی) کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں کفن میں دکھایا گیا اور اسے شدت پسند گروپ کے نام والے پرچم میں لپیٹا گیا تھا۔

سائٹ نے تقریباً 15 منٹ کی ویڈیو میں بالطرفی کے بارے میں اے کیو اے پی کے ایک تجربہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "خدا نے اس کی روح لے لی جب وہ صبر کے ساتھ اجر کا خواہاں تھا اور وہ ثابت قدم رہا، اس نے ہجرت کر کے چوکیداری کی اور جہاد کیا۔"

بالطرفی کی موت کے وقت یا وجہ کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات نہیں ہیں۔ خیال تھا کہ ان کی عمر 40 کے عشرے میں تھی۔

پیشرو قاسم الریمی کی امریکی ڈرون حملے یا یمن میں ہلاکت کے بعد اے کیو اے پی نے فروری 2020 میں بالطرفی کو اپنا رہنما مقرر کرنے اعلان کیا تھا۔

امریکہ القاعدہ کی یمن شاخ کو عالمی انتہا پسند نیٹ ورک کا خطرناک ترین دھڑا سمجھتا ہے اور محکمۂ خارجہ نے 2018 میں بالطرفی کو "عالمی دہشت گرد" قرار دیا تھا۔

سائٹ نے کہا کہ اس گروپ نے اپنے نئے سربراہ سعد بن عاطف العولقی کو نامزد کیا تھا جو آخری بار فروری 2023 میں جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں سنی قبائلیوں کو گروپ میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے نظر آئے تھے۔

اس شدت پسند گروپ نے یمن کی حکومت اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے درمیان 2014 سے جاری جنگ سے پیداشدہ افراتفری کے برسوں میں پرورش پائی۔

اے کیو اے پی نے یمن میں حوثیوں اور حکومتی افواج دونوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔

اس نے بیرون ملک بھی کبھی کبھار اور بےقاعدہ حملے کیے ہیں جن میں 2015 میں طنز و مزاح پر مبنی فرانسیسی اشاعت چارلی ہیبڈو کے دفاتر پر اور 2019 میں فلوریڈا میں امریکی بحریہ کے مرکز پر بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات شامل ہیں۔ اس واقعے میں تین امریکی ملاح ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں