فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل نے انتفاضہ کے پایہ تخت مسجد اقصیٰ کو گریژن میں تبدیل کر دیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلسطین میں غزہ کی پٹی میں جاری خونریز جنگ کے دوران، کل اتوار رمضان المبارک کی پہلی رات اسرائیلی پولیس نے سینکڑوں فلسطینی نمازیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا اور ان میں سے متعدد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری نے مسجد اقصیٰ کے کئی دروازوں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں نمازیوں کو داخلے سے روک دیا اور صرف 40 سال سے زائد عمر کے افراد اور خواتین کو ہی جانے دیا۔

ترکیے کے سرکاری خبر رساں ادارے ’اناضول‘ نے پیر کو رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فورسز نے ان نمازیوں پر حملہ کیا، جنہوں نے انہیں مسجد اقصیٰ کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں داخل ہونے سے روکا۔

یہ غزہ پر اسرائیلی جنگ کے پس منظر میں مغربی کنارے اور یروشلم میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں سامنے آیا ہے، جہاں گذشتہ سات اکتوبر سے اب تک 31,000 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

القدس کے پرانے شہر میں مسجد اقصیٰ، جو مسلمانوں کے لیے دنیا کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے، طویل عرصے سے ممکنہ تشدد کے لیے ایک فلیش پوائنٹ رہا ہے، خاص طور پر مذہبی مواقع کے دوران۔

جیسے ہی غزہ میں جنگ چھڑی، اسرائیل نے کہا کہ وہ حفاظتی ضروریات کا حوالہ دیتے ہوئے رمضان کے مہینے میں مسجد کے صحن میں نماز پر پابندی لگا سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کی طرف سے گذشتہ ہفتے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ رمضان کے پہلے ہفتے کے دوران متعدد نمازیوں کو مسجد کے صحن میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، جیسا کہ گزشتہ برسوں میں ہوا تھا، بغیر کسی تعداد کا اعلان کئے۔

جب کہ فلسطینی الاقصیٰ تک اپنی رسائی پر ایسی کوئی پابندی عائد کرنے کو مسترد کرتے ہیں۔


مسجد اقصیٰ کہاں واقع ہے؟

مسجد اقصیٰ پرانے شہر کے قلب میں ایک پہاڑی پر واقع ہے جسے مسلمانوں کے نزدیک "مقدس مسجد" اور یہودیوں کے نزدیک ٹمپل ماؤنٹ یا جبل ہیکل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مسلمان اسے قبلہ اول اور تیسرے حرم کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس میں قبہ الصخرہ اور مسجد اقصیٰ بھی شامل ہے، جسے المصلی القبلی بھی کہا جاتا ہے، جو آٹھویں صدی عیسوی میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس کی مغربی دیوار کو یہودی عبادت کے لیے ایک مقدس مقام سمجھتے ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ بائبل میں مذکور بادشاہ سلیمان نے 3,000 سال پہلے وہاں پہلا معبد تعمیر کیا تھا۔ 70 عیسوی میں رومیوں نے معبد منہدم کر دیا تھا۔

مسجد اقصی
مسجد اقصی

اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں الاقصیٰ پر اپنا کنٹرول مسلط کر دیا اور اسے مشرقی یروشلم کے باقی حصوں اور مغربی کنارے کے ملحقہ حصوں کے ساتھ ملحق کر لیا جس کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔

دریں اثنا، اردن، جس کا حکمران ہاشمی خاندان اسلامی اور عیسائی مقامات کی نگہبانی کرتا ہے، نے وقف فاؤنڈیشن کے اراکین کو مقرر کیا جو الاقصیٰ کی نگرانی کرتے ہیں۔

فلیش پوائنٹ

لیکن اسرائیل فلسطین تنازعہ میں یہ ایک فلیش پوائنٹ کیوں ہے؟

مسجد کا صحن طویل عرصے سے یروشلم میں خودمختاری اور مذہب کے معاملات پر خونی تشدد کا ایک فلیش پوائنٹ رہا ہے۔

مسجد اقصی
مسجد اقصی

اس علاقے پر طویل عرصے سے حکومت کرنے والے "سٹیٹس کو" کے انتظامات کے تحت، غیر مسلم وہاں جا سکتے ہیں، لیکن مسجد میں صرف مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔

تاہم، یہودی زائرین قوانین کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد کے صحن میں برسوں سے کھلے عام اور بڑھتے ہوئے عبادت اور مذہبی رسومات ادا کر رہے ہیں، جو کہ بہت سے فلسطینیوں کے لیے اشتعال کا باعث ہے۔

مسلمان نمازیوں کی مسجد تک رسائی پر اسرائیلی پابندیاں بھی بار بار احتجاج اور تشدد کے پھیلنے کا باعث بنیں۔

دوسرا انتفاضہ

2000 میں، اسرائیلی سیاست دان ارئیل شارون، جو اس وقت کے اپوزیشن لیڈر تھے، نے اسرائیلی پارلیمانی نمائندوں کے ایک گروپ کی مسجد اقصیٰ میں قیادت کی، جس کے نتیجے میں پرتشدد جھڑپیں شروع ہوئیں جو تیزی سے دوسری فلسطینی انتفاضہ کے نام سے مشہور ہیں۔

2021 میں الاقصیٰ میں جھڑپوں نے غزہ کے ساتھ 10روزہ جنگ کو بھڑکانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اسرائیلی فوج کا مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں فلسطینیوں پر حملہ - 15 فروری 2022 رائٹرز
اسرائیلی فوج کا مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں فلسطینیوں پر حملہ - 15 فروری 2022 رائٹرز

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی جنگی کونسل نے گذشتہ ہفتے فیصلہ کیا تھا کہ اسرائیل میں عربوں اور یروشلم کے رہائشیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے اور عمر کے گروپوں کی وضاحت کیے بغیر تقریباً 50 سے 60 ہزار افراد کو داخلے کی اجازت دی جائے۔ جب کہ تل ابیب میں اضافی کشیدگی اور سکیورٹی حملوں کے خدشات کے باعث رمضان المبارک کے دوران مغربی کنارے کے باشندوں کے یروشلم میں داخلے پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں