غرب اردن میں فوج کی تعیناتی دوبارہ قبضے کی اسرائیلی کوشش ہے: فلسطین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی وزارت خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں 23 فوجی بٹالین کی تعیناتی کی مذمت کرتے ہوئے اسے دوبارہ قبضے کی اسرائیلی کوشش قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل نے مغربی کنارے کے طول وعرض میں 750 سے زیادہ فوجی چوکیاں قائم کی ہیں۔ یروشلم شہرمیں ہزاروں اسرائیلی پولیس اہلکار اس کے علاوہ ہیں‘‘۔

کشیدگی میں اضافہ

فلسطینی وزارت خارجہ نے غرب اردن میں فوج کی تعیناتی کو ایک نئی کشیدگی کا موجب بننے کے علاوہ فلسطینیوں پرمزید اجتماعی سزائیں مسلط کرنےمترادف قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ غرب اردن اور فلسطین کے دوسرے علاقوں میں بڑی تعداد میں فوجی نفری کی تعیناتی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسرائیل تنازعات کو بات چیت اور سیاسی حل کے بجائے فوجی طاقت سے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے اور وہ فلسطینیوں کے دیرینہ حقوق اور مطالبات کو طاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے فلسطینی عوام کے لیے بین الاقوامی تحفظ کے نظام کو فعال کرنے پر زور دیا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی چینل "i24 نیوز" کی جانب سے رمضان کے پہلے دن کے موقع پرمغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی 23 بٹالین کی تعیناتی کی رپورٹ نشر کی گئی تھی۔

نمازیوں پر حملہ

اس کے علاوہ کل شام اسرائیلی پولیس نے سینکڑوں فلسطینی نمازیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روکا اور ان میں سے متعدد کو زدوکوب کیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری نے مسجد اقصیٰ کے کئی دروازوں سے گذرنے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں نمازیوں کو داخلے سے روک دیا اور صرف 40 سال سے زائد عمر کے افراد اور خواتین کو ہی جانے دیا۔

انادولو ایجنسی کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فورسز نے نمازیوں پر حملہ کیا اور انہیں مسجد اقصیٰ کے دروازے باب المجلس میں داخل ہونے سے روک دیا۔

قابل ذکر ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے پس منظر میں مغربی کنارے اور یروشلم میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ماحول ہے۔ ٖغزہ اس وقت لہو لہان ہے اور اسرائیلی بمباری میں 31000 سے زائد فلسطینی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں